کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: لوگوں پر ایسا وقت آئے گا جب ہر مومن (پناہ کے لیے) ملکِ شام پہنچ جائے گا
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن الأعمش، عن خَيْثَمة، عن عبد الله بن عمرو قال: يأتي على الناس زمانٌ لا يبقى فيه مؤمن إلَّا لَحِقَ بالشام (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8413 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کوئی مؤمن باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ شام سے جا ملے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8619
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح مح
تخریج حدیث «خبر صحيح محمد بن إبراهيم الأصبهاني مجهول كما سبق مرارًا لكنه لم ينفرد به» [ترقيم الرساله 8619] [ترقيم الشركة 8515] [ترقيم العلميه 8413]
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا هشام بن علي السِّيرافي، حدثنا عبد الله بن رجاء الغُدَاني (2)، حدثنا همَّام، عن قَتَادة، عن المهلَّب بن أبي صُفرة، عن عبد الله بن عمرو قال: تُبعَثُ نارٌ تسوقُ الناسَ من مشارق الأرض إلى مغاربها كما يُساقُ الجمل الكَسير، لها ما تَخلَّفَ منهم، إذا قالُوا قالت، وإذا باتُوا باتَتْ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8414 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک ایسی آگ بھیجی جائے گی جو لوگوں کو زمین کے مشرق سے مغرب کی طرف اس طرح ہنکا کر لے جائے گی جیسے تھکے ہوئے اونٹ کو ہنکایا جاتا ہے، جو پیچھے رہ جائے گا یہ آگ اسے اپنی گرفت میں لے لے گی، جب لوگ قیام کریں گے تو وہ بھی ٹھہر جائے گی اور جب وہ رات گزارنے کے لیے رکیں گے تو وہ بھی رک جائے گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8620
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإنَّ قتادة لم يسمع المهلب، بينهما فيه عمر ابن سيف كما وقع في "مشيخة إبراهيم بن طهمان" (61)، وسيأتي بيانه عند الحديث رقم (8861)، وعمر بن سيف هذا تفرَّد قتادة بالرواية عنه، فهو مجهول، وذكره ابن حبان في "ثقاته"!» [ترقيم الرساله 8620] [ترقيم الشركة 8516] [ترقيم العلميه 8414]