کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تم ایک دوسرے کی اچھی یا بری تعریف کے گواہ ہو
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمرو، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبدُ الله، أخبرنا نافع بن عمر الجُمَحِيّ، عن أُمَيَّة بن صفوان، عن أبي بكر بن أبي زهير الثَّقفي، عن أبيه قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول في خُطبته: "يا أيُّها الناس، تُوشكون أن تعرفوا أهل الجنة من أهل النار"، أو قال: "خيارَكم من شرِارِكم" فقال رجل من الناس: بِمَ يا رسول الله؟ قال: "بالثَّنَاءِ الحَسَنِ والثناءِ السيِّئ، أنتم شهودٌ بعضُكم على بعض" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8345 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکر بن ابی زہیر ثقفی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے خطبے میں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! تم عنقریب جنتیوں کو دوزخیوں سے پہچان لو گے“، یا فرمایا: ”اپنے میں سے بہترین کو برے لوگوں سے پہچان لو گے،“ تو ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کس چیز کے ذریعے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھی اور بری تعریف کے ذریعے، کیونکہ تم ایک دوسرے پر گواہ ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8549
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 8549] [ترقيم الشركة 8447] [ترقيم العلميه 8345]
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا هارون بن معروف، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عبد الله بن عَيَّاش القِتْباني، عن أبيه، عن عيسى بن هلال الصَّدَفي، عن عبد الله بن عمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "سيكون في آخر هذه الأمة رجالٌ يَركَبون على المَياثِرِ حتى يأتوا أبوابَ مساجدِهم، نساؤُهم كاسياتٌ عارياتٌ، على رؤوسهنَّ كأسنمة البُخْتِ العِجَاف، العنُوهنَّ فإنهنَّ ملعونات، لو كانت وراءَكم أُمّةٌ من الأمم لخَدَمْنَهم (2) كما خَدَمَكم نساء الأُمم قبلكم". فقلت لأبي: وما الميائر؟ قال: سُروجًا عِظامًا (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس امت کے آخری دور میں ایسے مرد ہوں گے جو بڑی زینوں (نرم گدوں) پر سوار ہو کر اپنی مسجدوں کے دروازوں تک آئیں گے، ان کی عورتیں لباس پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کے کوہان کی طرح ہوں گے، تم ان پر لعنت کرنا کیونکہ وہ ملعون ہیں، اگر تمہارے بعد کوئی اور امت ہوتی تو یہ عورتیں ان کی خدمت گزاری کرتیں جیسا کہ تم سے پہلی امتوں کی عورتوں نے تمہاری خدمت کی۔“ میں نے اپنے والد سے پوچھا: «المياثر» کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: اس سے مراد بڑی زینیں ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8550
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لتفرُّد عبد الله بن عياش القتباني به
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لتفرُّد عبد الله بن عياش القتباني به، فإنه ليس بالمتين كما قال أبو حاتم الرازي، ثم أتبعه بقوله: صدوق يكتب حديثه وهو قريب من ابن لهيعة؛ يعني أنه يعتبر به في المتابعات والشواهد، وضعَّفه أبو داود والنسائي، وقال ابن يونس: منكر الحديث، وذكره ابن حبان في "ثقاته"، وروى ...» [ترقيم الرساله 8550] [ترقيم الشركة 8448]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى النُّهْلي، الذُّهْلي، حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المفضّل، حدثنا عبد الله بن بُجَير، حدثنا سَيَّار بن سَلامة، عن أبي أُمامة قال: قال رسول الله ﷺ: "يَخرجُ في هذه الأمة في آخر الزمان رجالٌ معهم أسياطٌ كأنها أذنابُ البقر، يغدُونَ فِي سَخَطِ الله، ويَرُوحون في غَضَبِه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8347 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس امت میں آخری زمانے میں ایسے لوگ نکلیں گے جن کے پاس ایسے کوڑے ہوں گے جیسے بیلوں کی دمیں ہوتی ہیں، وہ اللہ کی ناراضی میں صبح کریں گے اور اس کے غضب میں شام کریں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8551
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل سيّار: وهو القرشي الأموي مولاهم الدمشقي، وليس سيار بن سلامة كما وقع مسمّى عند المصنف» [ترقيم الرساله 8551] [ترقيم الشركة 8449] [ترقيم العلميه 8347]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورمة (2)، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن قيس بن مُسلِم، عن طارق بن شِهاب، عن عبد الله بن مسعود: أنه ذَكَرَ الفتنة فقال: إِنَّ الرجل ليخرُجُ من بيته ومعه دِينُه فيَرجِعُ وما معه شيءٌ منه، يأتي الرجلَ لا يَملِكُ له ولا لنفسه ضَرًّا ولا نفعًا، فيُقسِمُ له بالله إنك لذَيْتَ وذَيْتَ، فيرجعُ ما حَلي من حاجته بشيءٍ وقد أسخَطَ الله عليه (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8348 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فتنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”یقیناً آدمی اپنے گھر سے اس حال میں نکلتا ہے کہ اس کے پاس اس کا دین ہوتا ہے، پھر وہ واپس لوٹتا ہے تو اس کے پاس دین میں سے کچھ بھی باقی نہیں ہوتا، وہ (دنیا دار) شخص کے پاس جاتا ہے جو نہ اس کے لیے اور نہ ہی اپنے لیے کسی نفع یا نقصان کا اختیار رکھتا ہے، وہ اس کے سامنے اللہ کی قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ آپ ایسے ہیں اور ایسے ہیں (خوشامد کرتا ہے)، پس وہ اپنی ضرورت تو کچھ پوری نہیں کر پاتا مگر اللہ کو خود سے ناراض کر کے لوٹتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8552
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، رجاله في الجملة ثقات معروفون غير محمد بن إبراهيم فإنه لا يُعرَف كما سبق، لكن لم ينفرد به» [ترقيم الرساله 8552] [ترقيم الشركة 8450] [ترقيم العلميه 8348]