المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ نَزَلَتِ الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ دَنَتِ الزَّلَازِلُ باب: جب تم خلافت کو ارضِ مقدسہ (شام) میں اترتے دیکھو تو سمجھ لو کہ زلزلے قریب آ گئے ہیں
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القنطري، حدثنا أبو قلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا عبد الحميد بن جعفر، عن صالح بن أبي عريب، عن كثير بن مُرَّة، عن عوف بن مالك الأشجعي: أنَّ رسول الله ﷺ خرج عليهم وأَقْناءُ مَعلَّقةٌ، وقِنوٌ منها حَشَفٌ، ومعه عصًا، فطَعَنَ بالعصا في القِنْو، قال: "لو شاءَ ربُّ هذه الصدقة فتصدَّق بأطيب منها، إنَّ صاحب هذه الصدقةِ يأكلُ الحَشَفَ يومَ القيامة"، ثم أقبَلَ علينا فقال: "أما والله يا أهل المدينة لَتدَعُنَّها مُذلَّلةً أربعين عامًا للعوافي " قلنا: الله ورسوله أعلم، ثم قال رسول الله ﷺ: "أتدرون ما العوافي؟ " قالوا: لا، قال: "الطيرُ والسباع" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8310 - صحيحسیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے جبکہ کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے اور ان میں سے ایک خوشہ ردی اور سوکھی کھجوروں کا تھا، آپ ﷺ کے پاس ایک عصا (لاٹھی) تھی، آپ ﷺ نے اس عصا سے اس خوشے میں ٹھوکا مارا اور فرمایا: ”اگر اس صدقہ کرنے والے کا رب چاہتا تو وہ اس سے بہتر صدقہ کر دیتا، یقیناً اس صدقہ کا مالک قیامت کے دن ردی کھجوریں ہی کھائے گا،“ پھر آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”خبردار! اے اہل مدینہ، اللہ کی قسم، تم اسے (مدینہ کو) چالیس سال تک پرندوں اور درندوں کے لیے یونہی چھوڑ دو گے۔“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ «العوافي» سے کیا مراد ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے مراد پرندے اور درندے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند مصنف کے شیخ اور "صالح بن ابی عریب" کی وجہ سے "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو قلابہ سے مراد "عبد الملک بن محمد الرقاشی" ہیں، اور ابو عاصم سے مراد "ضحاک بن مخلد" ہیں۔
وقد سلف عند المصنف برقم (3163) من طريقين آخرين عن أبي عاصم.
نوٹ / توضیح: یہ روایت مصنف کے ہاں نمبر (3163) کے تحت ابو عاصم سے دو دیگر طریقوں سے گزر چکی ہے۔