المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقى والتمائم— دم اور تعویذات کے احکام
مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ باب: تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہو وہ ضرور پہنچائے
حدیث نمبر: 8486
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا مُلازِم بن عمرو. وحدثنا أحمد بن إسحاق الفقيه وأحمد بن جعفر القَطِيعي، قالا: حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حَدَّثَنَا عليّ بن المَدِيني، حَدَّثَنَا مُلازِم بن عمرو، حَدَّثَنَا عبد الله بن بَدْر، عن قيس بن طَلْق، عن أبيه: أنه لَدغَتْه عقربٌ عند النَّبِيّ ﷺ، فرَقَاه النَّبِيّ ﷺ ومَسحَ بيدِه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8281 - صحيححافظ طلحہ بابر
قیس بن طلق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں بچھو نے ڈس لیا، تو نبی کریم ﷺ نے ان پر دم کیا اور اپنے دستِ مبارک سے (متاثرہ جگہ کو) مسح فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل قيس بن طلق. وهو في "مسند أحمد" 26/ (16298).
درجۂ حدیث: قیس بن طلق کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔ اور یہ "مسند احمد" 26/ (16298) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن حبان (6093) من طريق محمد بن عبد الملك بن أبي الشوارب، عن ملازم بن عمرو، بهذا الإسناد.
متابعات و شواہد: اسے ابن حبان (6093) نے محمد بن عبدالملک بن ابی الشوارب کے طریق سے، انہوں نے ملازم بن عمرو سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: قیس بن طلق کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔ اور یہ "مسند احمد" 26/ (16298) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن حبان (6093) من طريق محمد بن عبد الملك بن أبي الشوارب، عن ملازم بن عمرو، بهذا الإسناد.
متابعات و شواہد: اسے ابن حبان (6093) نے محمد بن عبدالملک بن ابی الشوارب کے طریق سے، انہوں نے ملازم بن عمرو سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8486 سے ماخوذ ہے۔