حدیث نمبر: 8484
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ؛ قال أبو بكر: أخبرنا، وقال علي: حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، عن سفيان، حَدَّثَنَا ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن العَقّار بن المغيرة بن شُعْبة، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لم يَتوكَّلْ مَن استَرقَى أو اكتَوَى" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8279 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دم کروایا یا (علاج کے لیے بدن کو) داغواتا ہے، اس نے (کامل) توکل نہیں کیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقى والتمائم / حدیث: 8484
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل العقّار بن المغيرة
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل العقّار بن المغيرة، فقد روى عنه جمع ولم يؤثر توثيقه عن غير العجلي وابن حبان» [ترقيم الرساله 8484] [ترقيم الشركة 8381] [ترقيم العلميه 8279]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل العقّار بن المغيرة، فقد روى عنه جمع ولم يؤثر توثيقه عن غير العجلي وابن حبان. سفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: عقار بن مغیرہ کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے، ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے لیکن عجلی اور ابن حبان کے علاوہ کسی سے ان کی توثیق منقول نہیں۔ سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 30 / (18200) عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
متابعات و شواہد: اسے احمد 30/ (18200) نے سفیان بن عیینہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (18180) و (18217) و (18221)، وابن ماجه (3489)، والترمذي (2055)، والنسائي (7561)، وابن حبان (6087) من طريقين عن مجاهد، به. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
متابعات و شواہد: اسے احمد (18180) وغیرہ، ابن ماجہ (3489)، ترمذی (2055)، نسائی (7561)، اور ابن حبان (6087) نے مجاہد سے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔ اور ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8484 سے ماخوذ ہے۔