أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهلي، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد، عن سفيان. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن عيسى، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير وأبو حُذَيفة قالا: حَدَّثَنَا سفيان عن محمد بن المُنكَدِر، عن أبي بكر بن سليمان بن أبي حَثْمة، عن حَفْصة: أنَّ امرأةً من قريش يقال لها: الشِّفاء، كانت تَرقِي من النَّمْلة، فقال النَّبِيّ ﷺ: "علِّمِيها حفصةَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8275 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8275 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش کی ایک خاتون جنہیں ”الشفاء“ کہا جاتا تھا، وہ ”نملہ“ (جلد کی ایک بیماری/پھنسیوں) کا دم کیا کرتی تھیں، تو نبی کریم ﷺ نے (مجھ سے) فرمایا: ”(اے حفصہ!) تم حفصہ کو بھی یہ دم سکھا دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حَدَّثَنَا يحيى بن بُكَير، حَدَّثَنَا اللَّيث، عن عُقيل، عن ابن شِهاب قال: أخبرني عُرْوةُ، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ رأَى في بيت أم سَلَمة زوجِ النَّبِيّ ﷺ جاريةً بوجهها سَفْعةٌ، فقال رسول الله ﷺ: "بها نَظْرةٌ، فاستَرْقُوا لها" (2).
هذا حديث صحيح (1) على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8276 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح (1) على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8276 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک بچی دیکھی جس کے چہرے پر (زردی یا سیاہی کا) نشان تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے نظرِ بد لگی ہے، اس کے لیے دم کرواؤ۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔