حَدَّثَنَا أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر، حَدَّثَنَا سليمان بن داود حَدَّثَنَا عبَّاد بن منصور، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ النَّبِيّ ﷺ كان يَحتجِمُ لسبعَ عشرةَ وتسعَ عشرةَ وإحدى وعشرين (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (قمری مہینے کی) سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو حجامہ کروایا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عمر بن حفص بن عمر السَّدُوسي، حَدَّثَنَا عبد الملك بن عبدِ ربِّه الطائيُّ، حَدَّثَنَا أبو علي عثمان بن جعفر، حَدَّثَنَا محمد بن جُحَادة، عن نافع قال: قال لي ابن عمر: يا نافع، إنه قد تَبيَّغَ بيَ الدمُّ، فالتمِسْ لي حجَّامًا واجعله رفيقًا إن استطعتَ، ولا تجعله شيخًا كبيرًا، ولا صبيًّا صغيرًا، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول: "الحِجَامَةُ على الرِّيق أمثلُ، وفيه شفاءٌ وبركةٌ، يزيدُ في العَقْل، ويزيدُ الحافظَ حِفظًا، احتَجِموا على بركةِ الله يومَ الخميس، واجتَنِبوا يومَ الجمعة ويومَ السبت ويومَ الأحد، واحتَجِموا يومَ الاثنين والثلاثاء فإنه اليومُ الذي عافى اللهُ فيه أيوبَ من البلاء، وليس يبدأُ بَرَصٌ ولا جُذَامٌ إِلَّا يومَ الأربعاء وليلة الأربعاء، وإنما ابتُليَ أيوبُ يومَ الأربعاء" (3). رواةُ هذا الحديث كلُّهم ثِقات غيرَ عثمان بن جعفر هذا، فإني لا أعرفُه بعدالةٍ ولا جَرْح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8255 - هو واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8255 - هو واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نافع سے کہا: اے نافع! میرا خون جوش مار رہا ہے، میرے لیے کوئی حجام (سنگی لگانے والا) تلاش کرو اور اگر ہو سکے تو وہ نرم خو ہو، کسی بوڑھے یا چھوٹے بچے کو نہ لانا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”نہار منہ حجامہ کروانا زیادہ بہتر ہے، اس میں شفاء اور برکت ہے، یہ عقل اور حافظہ کو بڑھاتا ہے، تم اللہ کی برکت کے ساتھ جمعرات کے دن حجامہ کروایا کرو اور جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے دن اس سے پرہیز کرو، اور پیر و منگل کو حجامہ کروایا کرو کیونکہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو آزمائش سے عافیت دی تھی، اور برص و جذام کی بیماریاں بدھ کے دن یا بدھ کی رات ہی ظاہر ہوتی ہیں کیونکہ ایوب علیہ السلام بدھ کے دن ہی آزمائش میں مبتلا ہوئے تھے۔“
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے عثمان بن جعفر کے کہ میں ان کی عدالت یا جرح کے بارے میں نہیں جانتا۔
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے عثمان بن جعفر کے کہ میں ان کی عدالت یا جرح کے بارے میں نہیں جانتا۔
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مُسلِم، حَدَّثَنَا حجَّاج بن مِنْهال، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، عن سليمان بن أرقمَ، عن الزُّهري (1)، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن احتجَمَ يومَ الأربعاء ويومَ السبت فرأَى وَضَحًا، فلا يَلُومَنَّ إلا نفسَه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8256 - سليمان بن أرقم متروك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8256 - سليمان بن أرقم متروك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بدھ یا ہفتے کے دن حجامہ کروایا اور پھر اسے برص (سفید داغ) کی بیماری لاحق ہو گئی، تو وہ اپنے علاوہ کسی کو ملامت نہ کرے۔“
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، حَدَّثَنَا السَّرِي (1) ابن خُزيمة، حَدَّثَنَا أحمد بن يونس، حَدَّثَنَا حمَّاد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة: أنَّ أبا هِنْد حَجَمَ النَّبِيَّ ﷺ بوَجٍّ من وجعٍ كان به، وقال: "إنْ كان في شيءٍ ممّا تَداوَوْنَ به من خيرٍ، فالحِجامةُ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8257 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8257 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوہند نے نبی کریم ﷺ کو کسی تکلیف کی وجہ سے حجامہ کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہاری دواؤں میں کوئی خیر ہے تو وہ حجامہ میں ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يزيد بن زُرَيع، حَدَّثَنَا عبَّاد بن منصور، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "نِعمَ الدواءُ الحِجامةُ، تُذهِبُ الدمَ، وتَجلُو البصرَ، وتُخِفُّ الصُّلْبَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8258 - غير صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8258 - غير صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حجامہ بہترین دوا ہے، یہ (فاسد) خون کو نکال دیتا ہے، بینائی کو روشن کرتا ہے اور کمر کو ہلکا کرتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔