کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: دو جھوٹے دعویداروں (مسیلمہ اور عنسی) کے انجام کا بیان
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد القَطَّان ببغداد، أخبرنا عبد الكريم بن الهَيْثم الدَّيْرعاقُوليُّ، حَدَّثَنَا أبو اليَمَان، أخبرنا شعيب بن أبي حمزة، عن ابن أبي حُسين، عن نافع بن جُبير، عن ابن عباس، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "رأيتُ في المنام كأنَّ في يَديَّ سِوَارَينِ من ذهب، فهَمَّني شأنُهُما، فأُوحِيَ إِليَّ: أَنِ انفُخُهما، فنفختُهما فطَارَا، فأوَّلتُهما كاذِبَين يَخرُجان من بَعْدي، يقال لأحدهما: مُسَيلِمةُ صاحب اليَمَامة، والعَدَنيُّ صاحب عَنْسا (1) " (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8203 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8203 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن ہیں، مجھے ان کی وجہ سے فکر لاحق ہوئی، تو میری طرف وحی کی گئی کہ ان پر پھونک ماروں، چنانچہ میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ اڑ گئے، میں نے ان کی تعبیر ان دو کذابوں سے لی جو میرے بعد ظاہر ہوں گے، ان میں سے ایک یمامہ والا مسیلمہ ہے اور دوسرا یمن والا عنسی (اسود عنسی) ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعيُّ، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن معاوية بن صالح، عن رَبيعة بن يزيد، عن واثلة بن الأسْقَع قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ أعظمَ الفِرْيَةِ أن يفتريَ الرجلُ على عَينَيهِ؛ يقول: رأيتُ، ولم يَرَ، أو يَفتريَ على والديهِ، أو يقولَ: سَمِعَني، ولم يَسمَعْني" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. كتاب الطب (1) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8204 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. كتاب الطب (1) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8204 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی آنکھوں پر جھوٹ باندھے اور کہے کہ میں نے (خواب) دیکھا ہے جبکہ اس نے نہیں دیکھا، یا اپنے والدین پر جھوٹ باندھے، یا یہ کہے کہ کسی نے میری بات سنی ہے جبکہ اس نے نہیں سنی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔