کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خون کی شیشی اور وہاں کی مٹی کا خواب
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى الأَسَدي، حَدَّثَنَا الحسن بن موسى الأشْيَب، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن عمّار بن أبي عمّار (2)، عن ابن عبّاس قال: رأيتُ النَّبِيّ ﷺ فيما يرى النائمُ نِصفَ النهار، أشعثَ أغبرَ معه قارورةٌ فيها دم، فقلتُ: يا نبيَّ الله، ما هذا؟ قال: "هذا دمُ الحُسين وأصحابِه، لم أزَلْ أَلتقِطُه منذ اليومِ"، قال: فأُحصيَ ذلك اليومُ فوجدوه قُتل قبل ذلك بيوم (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8201 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8201 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور آپ گرد آلود ہیں، آپ ﷺ کے پاس ایک شیشی ہے جس میں خون ہے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے، میں آج کے دن سے مسلسل اسے جمع کر رہا ہوں“، راوی کہتے ہیں: اس دن کا حساب لگایا گیا تو پتہ چلا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اس سے ایک دن پہلے شہید ہوئے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه أبو الحسين علي بن عبد الرحمن السَّبيعي (2) بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن حازمٍ الغِفَاريّ، حَدَّثَنَا خالد بن مَخْلَد القَطَواني، قال: حدثني موسى بن يعقوب الزَّمْعي، أخبرني هاشم بن هاشم بن عُتْبة بن أبي وَقّاص، عن عبد الله بن وهب بن زَمْعة، قال: أخبرتنى أم سَلَمة: أنَّ رسول الله ﷺ اضطَجَعَ ذات ليلةٍ للنوم فاستيقظ وهو خاثرٌ، ثم اضطجع فرَقَدَ، ثم استيقظ خاثرًا دون ما رأيتُ به المرةَ الأُولى، ثم اضطجع فاستيقظ وفي يده تُرْبةٌ حمراءُ يُقلِّبُها (3)، فقلتُ: ما هذه التربةُ يا رسول الله؟ قال: "أخبرَني جبريل ﵇ أنَّ هذا يُقتَلُ بأرض العِرَاق - للحُسين - فقلتُ لجبريل: أَرِني تربةَ الأرض التي يُقتَل بها، فهذه تُربَتُها" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8202 - مر هذا على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8202 - مر هذا على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات سونے کے لیے لیٹے تو بیدار ہوئے اور آپ ﷺ پریشانی کے عالم میں تھے، پھر لیٹے اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو پہلی مرتبہ کی نسبت کم پریشان تھے، پھر لیٹے اور جب بیدار ہوئے تو آپ ﷺ کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی جسے آپ ﷺ الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ مٹی کیسی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی ہے کہ یہ (حسین) عراق کی سرزمین میں شہید کر دیا جائے گا، میں نے جبرائیل سے کہا کہ مجھے اس جگہ کی مٹی دکھائیں جہاں اسے شہید کیا جائے گا، تو یہ وہاں کی مٹی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔