کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: دنیاوی زندگی میں "بشارت" سے مراد سچے خواب ہیں
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن الحسن بن بَيَان المُقرئ، حدَّثنا عبد الله بن رَجَاء، حدَّثنا حَرْب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة قال: نُبِّئتُ عن عُبادة بن الصَّامت قال: سألتُ رسول الله ﷺ عن قوله ﷿: ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [يونس: 64] قال: "هي الرُّؤْيا الصَّالحةُ يَرَاها المؤمنُ أو تُرَى له" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي الدرداء الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8179 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [سورة يونس: 64] کے متعلق مروی ہے کہ میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ صالح خواب ہے جسے مومن خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے (کسی دوسرے کو) دکھایا جاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 8378
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات إلا أنه منقطع بين أبي سلمة وعبادة كما هو ظاهر الرواية» [ترقيم الرساله 8378] [ترقيم الشركة 8279] [ترقيم العلميه 8179]
حدَّثَناه علي بن عيسى الحِيري، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا ابن أبي عُمر، حدَّثنا سفيان، عن عبد العزيز بن رُفيع، عن أبي صالح السَّمَّان، عن عطاء بن يَسار، قال: سألتُ أبا الدرداء عن قول الله ﷿: ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾، فقال: ما سألني عنها أحدٌ غيرُك منذ سألتُ رسول الله ﷺ عنها، سألتُ رسولَ الله ﷺ عنها فقال: "ما سألَني عنها أحدٌ غيرُك مُنذُ أنزلَت، هي الرُّؤيا الصالحةُ يَراها المسلم، أو تُرَى له" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب سے میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا ہے، تمہارے سوا کسی اور نے مجھ سے اس بارے میں نہیں پوچھا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے، تمہارے علاوہ کسی نے مجھ سے اس کے بارے میں سوال نہیں کیا، اس سے مراد وہ صالح خواب ہے جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے دکھایا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 8379
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلَّا أنَّ المحفوظ فيه عن عطاء بن يسار عن رجل عن أبي الدرداء، بإدخال واسطة مبهمة، وهو الذي صوَّبه الدارقطني في "العلل" (1080)» [ترقيم الرساله 8379] [ترقيم الشركة 8280]
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبيُّ، حدَّثنا أبو عيسى محمد بن عيسى، حدَّثنا قُتيبة بن سعيد، حدَّثنا بكر بن مُضَر، عن ابن الهاد، عن عبد الله بن خَبَّاب، عن أبي سعيدٍ الخُدْري، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: "إذا رأى أحدُكم الرُّؤيا يحبُّها فإنما هي من الله، فليَحمَدِ الله عليها وليُحدِّثْ بما رأى، وإذا رأى غيرَ ذلك مما يَكرَه فإنما هي من الشيطان، فليَستعِذْ بالله من شَرِّها ولا يَذْكُرْها لأحد، فإنها لا تَضرُّه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8181 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہے، پس اسے چاہیے کہ وہ اس پر اللہ کی حمد بیان کرے اور اسے دوسروں کو بتائے، اور جب وہ اس کے علاوہ ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ شیطان کی طرف سے ہے، پس اسے چاہیے کہ وہ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور اسے کسی سے ذکر نہ کرے، کیونکہ وہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 8380
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8380] [ترقيم الشركة 8281] [ترقيم العلميه 8181]