المستدرك على الصحيحين
كتاب تعبير الرؤيا— خوابوں کی تعبیروں کا بیان
الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ باب: دنیاوی زندگی میں "بشارت" سے مراد سچے خواب ہیں
حدیث نمبر: 8378
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن الحسن بن بَيَان المُقرئ، حدَّثنا عبد الله بن رَجَاء، حدَّثنا حَرْب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة قال: نُبِّئتُ عن عُبادة بن الصَّامت قال: سألتُ رسول الله ﷺ عن قوله ﷿: ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [يونس: 64] قال: "هي الرُّؤْيا الصَّالحةُ يَرَاها المؤمنُ أو تُرَى له" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي الدرداء الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8179 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [سورة يونس: 64] کے متعلق مروی ہے کہ میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ صالح خواب ہے جسے مومن خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے (کسی دوسرے کو) دکھایا جاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات إلا أنه منقطع بين أبي سلمة وعبادة كما هو ظاهر الرواية.
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن ابو سلمہ اور حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے جیسا کہ روایت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22740) عن أبي سعيد مولى بني هاشم، عن حرب بن شدّاد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (37/ 22740) نے ابو سعید (مولیٰ بنی ہاشم) سے، انہوں نے حرب بن شداد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
لكن قال: عن أبي سلمة عن عبادة.
تفصیلِ روایت: لیکن اس میں انہوں نے "عن أبي سلمة عن عبادة" کہا ہے (یعنی "عن" کے ذریعے)۔
وأخرجه الترمذي (2275) من طريق أبي داود الطيالسي، عن حرب بن شداد وعمران القطان، به.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2275) نے ابو داود الطیالسی کے طریق سے، انہوں نے حرب بن شداد اور عمران القطان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفيه: نُبِّئتُ عن عبادة.
تفصیلِ روایت: اس میں الفاظ ہیں: "نُبِّئتُ عن عبادة" (مجھے عبادہ سے خبر دی گئی ہے)۔
وقد سلف برقم (3341) من طريق علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير.
اہم نکتہ: یہ روایت نمبر (3341) پر علی بن مبارک عن یحییٰ بن ابی کثیر کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن ابو سلمہ اور حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے جیسا کہ روایت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22740) عن أبي سعيد مولى بني هاشم، عن حرب بن شدّاد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (37/ 22740) نے ابو سعید (مولیٰ بنی ہاشم) سے، انہوں نے حرب بن شداد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
لكن قال: عن أبي سلمة عن عبادة.
تفصیلِ روایت: لیکن اس میں انہوں نے "عن أبي سلمة عن عبادة" کہا ہے (یعنی "عن" کے ذریعے)۔
وأخرجه الترمذي (2275) من طريق أبي داود الطيالسي، عن حرب بن شداد وعمران القطان، به.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2275) نے ابو داود الطیالسی کے طریق سے، انہوں نے حرب بن شداد اور عمران القطان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفيه: نُبِّئتُ عن عبادة.
تفصیلِ روایت: اس میں الفاظ ہیں: "نُبِّئتُ عن عبادة" (مجھے عبادہ سے خبر دی گئی ہے)۔
وقد سلف برقم (3341) من طريق علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير.
اہم نکتہ: یہ روایت نمبر (3341) پر علی بن مبارک عن یحییٰ بن ابی کثیر کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8378 سے ماخوذ ہے۔