کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ کے رجم سے متعلق احادیث
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، حدثنا وهب بن جَرِير، حدثنا أبي قال: سمعت يعلى بن حَكيم يُحدِّث عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ قال لماعِزِ بن مالك: "وَيْحَكَ، لعَلَّكَ قبلت أو لَمَستَ أو غَمَزْتَ أو نَظَرتَ! " قال: لا، قال: "أفعَلْتَها؟ قال: نعم، فعند ذلك أمرَ برَجْمِه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد رواه الحكم بن أبان عن عكرمة بزياداتِ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8076 - ذا في البخاري
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد رواه الحكم بن أبان عن عكرمة بزياداتِ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8076 - ذا في البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ماعز بن مالک سے فرمایا: ”تمہاری خرابی ہو! شاید تم نے محض بوسہ لیا ہو گا، یا چھوا ہو گا، یا آنکھ ماری ہو گی، یا صرف دیکھا ہو گا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے واقعی وہ (فعل) کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تب آپ ﷺ نے ان کے رجم (سنگسار) کرنے کا حکم دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
كما حدَّثَناه بكر بن محمد بن حَمْدان المروّزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا حفص بن عمر العَدَني، حدثنا الحَكَم بن أبان، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ ماعزًا جاء إلى رجل من المسلمين، فقال: إني أصبتُ فاحشةً، فما تأمرُني؟ فقال له الرجلُ: اذهَبْ إلى رسولِ الله ﷺ ليستغفِرَ لك. فلما أتى ماعزٌ رسول الله ﷺ فأخبره كَرِهَ رسول الله ﷺ كلامَه - أو قال: قولَه - ثم قال رسولُ الله ﷺ لمن كان معه: "أَبصاحبِكم مَسٌّ؟ " قال ابن عباس: فنظرتُ إلى القوم لأُشيرَ عليهم، فلم يَلتفِتْ إليَّ منهم أحدٌ، فقال له رسول الله ﷺ: "لعلَّكَ قبَّلتَها؟ " قال: لا، قال النبي ﷺ: فمَسِسْتها؟ قال: لا، قال: "ففَعَلتَ بها؟ " ولم يَكْنِ (1)، قال: 4/ 362 نعم، قال: "فارجُمُوه"، قال: فبَيْنا هو يُرجَمُ إِذ رَمَاه الرجلُ الذي جاءَه ماعزٌ يستشيرُه، رَمَاه بِعَظْمٍ فخَرَّ ماعزٌ، فالتفَتَ إليه، فقال له ماعزٌ: قاتَلَكَ اللهُ أَوْرَيتَني (2) ثم أنتَ الآنَ تَرجُمُني (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8077 - حفص بن عمران العدني ضعفوه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8077 - حفص بن عمران العدني ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز ایک مسلمان شخص کے پاس آئے اور کہا: مجھ سے بے حیائی کا کام سرزد ہو گیا ہے، آپ میرے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہیں؟ اس شخص نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں جاؤ تاکہ وہ تمہارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، جب ماعز نے آ کر رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے ان کی بات کو ناپسند کیا، پھر آپ ﷺ نے اپنے پاس موجود لوگوں سے پوچھا: ”کیا تمہارے اس ساتھی کو کوئی ذہنی خلل (جنون) ہے؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں لوگوں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ انہیں اشارہ کروں (کہ خاموش رہیں) مگر ان میں سے کسی نے میری طرف توجہ نہ دی، پھر رسول اللہ ﷺ نے ماعز سے فرمایا: ”شاید تم نے اس کا صرف بوسہ لیا ہو گا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اسے چھوا تھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے اس کے ساتھ وہ (فعل) کیا ہے؟“ اور آپ ﷺ نے اس میں کنایہ استعمال نہیں فرمایا (بلکہ صراحت سے پوچھا)، انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں رجم کر دو“، راوی کہتے ہیں کہ جب انہیں رجم کیا جا رہا تھا تو اسی شخص نے انہیں ایک ہڈی ماری جس کے پاس ماعز مشورہ لینے گئے تھے، ماعز گر پڑے اور اس کی طرف متوجہ ہو کر کہا: ”اللہ تجھے غارت کرے، تو نے ہی مجھے (رسول اللہ ﷺ کے سامنے) ظاہر کیا اور اب تو ہی مجھے رجم کر رہا ہے۔“