حدیث نمبر: 8276
كما حدَّثَناه بكر بن محمد بن حَمْدان المروّزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا حفص بن عمر العَدَني، حدثنا الحَكَم بن أبان، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ ماعزًا جاء إلى رجل من المسلمين، فقال: إني أصبتُ فاحشةً، فما تأمرُني؟ فقال له الرجلُ: اذهَبْ إلى رسولِ الله ﷺ ليستغفِرَ لك. فلما أتى ماعزٌ رسول الله ﷺ فأخبره كَرِهَ رسول الله ﷺ كلامَه - أو قال: قولَه - ثم قال رسولُ الله ﷺ لمن كان معه: "أَبصاحبِكم مَسٌّ؟ " قال ابن عباس: فنظرتُ إلى القوم لأُشيرَ عليهم، فلم يَلتفِتْ إليَّ منهم أحدٌ، فقال له رسول الله ﷺ: "لعلَّكَ قبَّلتَها؟ " قال: لا، قال النبي ﷺ: فمَسِسْتها؟ قال: لا، قال: "ففَعَلتَ بها؟ " ولم يَكْنِ (1)، قال: 4/ 362 نعم، قال: "فارجُمُوه"، قال: فبَيْنا هو يُرجَمُ إِذ رَمَاه الرجلُ الذي جاءَه ماعزٌ يستشيرُه، رَمَاه بِعَظْمٍ فخَرَّ ماعزٌ، فالتفَتَ إليه، فقال له ماعزٌ: قاتَلَكَ اللهُ أَوْرَيتَني (2) ثم أنتَ الآنَ تَرجُمُني (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8077 - حفص بن عمران العدني ضعفوه
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز ایک مسلمان شخص کے پاس آئے اور کہا: مجھ سے بے حیائی کا کام سرزد ہو گیا ہے، آپ میرے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہیں؟ اس شخص نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں جاؤ تاکہ وہ تمہارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، جب ماعز نے آ کر رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے ان کی بات کو ناپسند کیا، پھر آپ ﷺ نے اپنے پاس موجود لوگوں سے پوچھا: ”کیا تمہارے اس ساتھی کو کوئی ذہنی خلل (جنون) ہے؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں لوگوں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ انہیں اشارہ کروں (کہ خاموش رہیں) مگر ان میں سے کسی نے میری طرف توجہ نہ دی، پھر رسول اللہ ﷺ نے ماعز سے فرمایا: ”شاید تم نے اس کا صرف بوسہ لیا ہو گا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اسے چھوا تھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے اس کے ساتھ وہ (فعل) کیا ہے؟“ اور آپ ﷺ نے اس میں کنایہ استعمال نہیں فرمایا (بلکہ صراحت سے پوچھا)، انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں رجم کر دو“، راوی کہتے ہیں کہ جب انہیں رجم کیا جا رہا تھا تو اسی شخص نے انہیں ایک ہڈی ماری جس کے پاس ماعز مشورہ لینے گئے تھے، ماعز گر پڑے اور اس کی طرف متوجہ ہو کر کہا: ”اللہ تجھے غارت کرے، تو نے ہی مجھے (رسول اللہ ﷺ کے سامنے) ظاہر کیا اور اب تو ہی مجھے رجم کر رہا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8276
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا بهذا السياق
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا بهذا السياق، حفص بن عمر العدني متفق على ضعفه، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 8276] [ترقيم الشركة 8177] [ترقيم العلميه 8077]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: يكني، بإثبات الياء والمثبت على الجادة من "التلخيص" للذهبي.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ "یَکنِی" (یاء کے اثبات کے ساتھ) ہے، جبکہ یہاں جو متن (مثبت) درج کیا گیا ہے وہ قواعد کے مطابق درست حالت میں ہے جیسا کہ ذہبی کی "التلخیص" میں ہے۔
(2) في (ز): أورتني، وفي (م): أرسي، غير منقوطة، وفي (ك): أورتنني، والمثبت من (ب)، وهو الصواب إن شاء الله، ففي "لسان العرب" (وري): استوريتُ فلانًا رأيًا: سألته أن يستخرج لى رأيًا.
نوٹ / مخطوطات: نسخہ (ز) میں لفظ "أورتني"، نسخہ (م) میں "أرسي" (بغیر نقطوں کے)، اور نسخہ (ک) میں "أورتنني" ہے۔ جو متن یہاں درج ہے وہ نسخہ (ب) سے لیا گیا ہے اور انشاءاللہ وہی درست ہے؛ کیونکہ "لسان العرب" (مادہ: وری) میں ہے: "استوریتُ فلاناً رأیاً" کا مطلب ہے: میں نے فلاں سے درخواست کی کہ وہ میرے لیے کوئی رائے نکالے (یعنی مشورہ طلب کیا)۔
(3) إسناده ضعيف جدًّا بهذا السياق، حفص بن عمر العدني متفق على ضعفه، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص". عبد الصمد بن الفضل: هو ابن موسى البلخي.
درجۂ حدیث: اس سیاق (الفاظ) کے ساتھ اس کی سند شدید ضعیف ہے۔ فنی نکتہ / علّت: راوی "حفص بن عمر العدنی" کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے، اور اسی وجہ سے امام ذہبی نے "التلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے۔ عبدالصمد بن الفضل سے مراد "عبدالصمد بن موسیٰ البلخی" ہیں۔
ولم نقف عليه مخرَّجًا من هذا الوجه عند غير المصنف.
فنی نکتہ / علّت: ہمیں مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں اس سند (طریق) سے اس حدیث کی تخریج نہیں ملی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8276 سے ماخوذ ہے۔