کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے لیے رجم کے وقت سینے تک گڑھا کھودا گیا
حدثنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، قالا: حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا خلَّاد بن يحيى، حدثنا بَشير بن المُهاجر، عن عبد الله (1) بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: كنتُ جالسًا عند رسولِ الله ﷺ فجاء الأسلميُّ ماعزُ بنُ مالك، فقال: يا رسولَ الله، إنِّي زَنَيتُ، وإني أُريد أن تُطهِّرَني، فقال له النبيُّ ﷺ: "ارجع"، فرجعَ حتى أتاه الثالثةَ، فأتى رسولَ الله ﷺ قومُه فسألَهم عنه، فأحسَنُوا عليه الثَّناءَ، فقال: "كيف عَقلُه، هل به "جُنونٌ؟ " قالوا: لا والله، وأحسَنُوا عليه الثناءَ في عقلِه ودينهِ، وأتاه الرابعةَ فسألهم عنه، فقالوا له مثلَ ذلك، فأمَرَهم فَحَفَرُوا له حفرةً إلى صَدرِه ثم رَجَموه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، فقد احتجَّ ببَشير بن مُهاجر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8078 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، فقد احتجَّ ببَشير بن مُهاجر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8078 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ اسلمی قبیلے کے ماعز بن مالک آئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے (سزا دے کر) پاک کر دیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”واپس چلے جاؤ“، وہ تین بار واپس جا کر پھر آئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کی قوم کے پاس آدمی بھیجا اور ان کے بارے میں پوچھا، انہوں نے ان کی تعریف کی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کی عقل کیسی ہے، کیا اسے جنون تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، اور ان کی عقل و دین کی تعریف کی، چوتھی مرتبہ جب وہ آئے تو آپ ﷺ نے دوبارہ قوم سے پوچھا، انہوں نے پھر وہی جواب دیا، تب آپ ﷺ نے حکم دیا تو ان کے لیے سینے تک گڑھا کھودا گیا اور پھر انہیں رجم کر دیا گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے بشیر بن مہاجر سے احتجاج کیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے بشیر بن مہاجر سے احتجاج کیا ہے۔
أخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا داود بن أبي هند، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ ماعز بن مالك أتى النبيَّ ﷺ فقال: إني أصبتُ فاحشةً، فردَّده النبيُّ ﷺ مرارًا، فسأل قومَه: "أبِهِ بأسٌ؟ " فقالوا: ما به بأسٌ إلَّا أنه أتى أمرًا لا يَرَى أن يُخرِجَه منه إلَّا أن يُقامَ الحدُّ عليه، قال: فأمَرَنا فانطلقنا به إلى بَقِيع الغَرقَد، قال: فلم نَحفِرْ له ولم نُوثِقه، فرَمَيناه بخَزَفٍ وعِظام وجَنْدَل، فاستكَنَّ، فسعى فاشتَدَدْنا خلفَه، فأتى الحَرَّة فانتَصَب لنا، فرَمَيناه بجَلاميدِها حتى سَكَتَ، فقام النبي ﷺ من العَشِيّ خطيبًا، فحمد الله وأثنى عليه، فقال: "أمّا بعدُ، فما بالُ أقوام إذا غَزَونا فتَخلَّفَ أحدُهم في عِيالِنا له نَبيبٌ كنَبيبِ التَّيس، أمَا إني عَليَّ لا أُوتَى بأَحدٍ (1) فعلَ ذلك إلَّا نَكَّلتُ به"، قال: ثم نزل، فلم يَسُبَّه ولم يَستغفِرْ له (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8079 - على شرط النسائي ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8079 - على شرط النسائي ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی: میں نے بے حیائی کا کام کیا ہے، نبی کریم ﷺ نے کئی بار انہیں ٹالا اور ان کی قوم سے پوچھا: ”کیا اس میں کوئی خرابی (دماغی خلل) ہے؟“ انہوں نے کہا: اس میں کوئی خرابی نہیں سوائے اس کے کہ اس سے ایسا کام ہو گیا ہے جس سے وہ نجات کا راستہ صرف حد لگوانے ہی میں دیکھتا ہے، ابوسعید کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تو ہم انہیں بقیع الغرقد کی طرف لے گئے، ہم نے نہ تو ان کے لیے گڑھا کھودا اور نہ ہی انہیں باندھا، ہم نے انہیں ٹھیکریوں، ہڈیوں اور پتھروں سے مارنا شروع کیا، جب انہیں چوٹیں لگیں تو وہ بھاگے، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے یہاں تک کہ وہ حرہ کے مقام پر ہمارے سامنے آ کھڑے ہوئے، پھر ہم نے انہیں بڑے پتھروں سے مارا یہاں تک کہ وہ خاموش (فوت) ہو گئے، پھر شام کو نبی کریم ﷺ نے خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”اما بعد! ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جب ہم جہاد پر جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی پیچھے رہ کر ہمارے اہل و عیال میں بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے (بدفعلی کی کوشش کرتا ہے)، آگاہ رہو! میرے پاس جو بھی ایسا شخص لایا گیا میں اسے عبرتناک سزا دوں گا“، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ منبر سے اتر آئے، آپ ﷺ نے ماعز کو نہ برا بھلا کہا اور نہ ہی ان کے لیے استغفار کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود الطَّيَالسي، حدثنا شُعْبة، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن المُنكدِر، عن ابن لهَزَّال، عن أبيه، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "يا هزَّالُ، لو سَتَرته بثوبك كان خيرًا لك". قال شُعبة: قال يحيى: فذكرتُ هذا الحديث بمجلس فيه يزيد بن نُعيم بن هَزّال، فقال يزيد: هذا الحديث (3) حقٌّ، وهو حديث جدِّي (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تفرّد بهذه الزيادة أبو داود عن شُعبة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8080 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تفرّد بهذه الزيادة أبو داود عن شُعبة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8080 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ہزال کے بیٹے سے روایت ہے کہ ان کے والد نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ہزال! اگر تم اسے اپنے کپڑے سے ڈھانپ لیتے (یعنی اس کا پردہ رکھتے) تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔“ یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے جب یہ حدیث ایک مجلس میں بیان کی جہاں ہزال کے پوتے یزید بن نعیم موجود تھے تو انہوں نے کہا: یہ حدیث برحق ہے اور یہ میرے دادا ہی کی روایت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان الحَضرميُّ، حدثنا علي بن سعيد بن مسروق الكِنْدي، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قيل للنبيِّ ﷺ: إنَّ ماعزًا حينَ وَجَدَ مسَّ الحجارةِ والموتِ فَرَّ، فقال: "أفهَلَّا تركتُموه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8081 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8081 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کیا گیا کہ ماعز جب پتھروں کی چوٹ اور موت کی سختی محسوس کرنے لگے تو بھاگ کھڑے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا؟“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا سفيان، عن زيد بن أسلم عن يزيد بن نُعيم، عن أبيه، قال: جاء ماعزُ بن مالك إلى النبيِّ ﷺ فقال: يا رسول الله، إني زنيتُ فأَقِمْ فيَّ كتابَ الله، فأعرضَ عنه، حتى جاء أربعَ مّرات قال: "اذهبُوا به فارجُمُوه"، فلما مسَّتْه الحجارةُ جَزِعَ فاشتدَّ، قال: فخرج عبدُ الله بن أُنيس من باديته فرَمَاهِ بوَظِيفِ حمارٍ فَصَرَعَه، ورماه الناسُ حتى قتلوه، فذكر للنبي ﷺ فراره، فقال: "هلَّا تَركتُموه، لعلَّه يتوبُ ويتوبُ الله عليه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8082 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8082 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
یزید بن نعیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب (کی حد) قائم فرمائیے، آپ ﷺ نے ان سے اعراض کیا یہاں تک کہ وہ چار مرتبہ آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو“، جب انہیں پتھر لگے تو وہ گھبرا کر تیزی سے بھاگے، عبداللہ بن انیس اپنے صحرا سے نکلے اور گدھے کے پاؤں کی ہڈی انہیں ماری جس سے وہ گر پڑے، پھر لوگوں نے انہیں پتھر مار کر قتل کر دیا، جب نبی کریم ﷺ کو ان کے بھاگنے کا بتایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا، شاید وہ توبہ کر لیتے اور اللہ ان کی توبہ قبول فرما لیتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔