حدثنا الأستاذ أبو الوليد، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجي، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا جَرير عن الأعمش، عن ثُمَامة بن عُقبة المُحلِّمي، عن زيد بن أرقم، قال: كان رجلٌ يدخلُ على النبيِّ ﷺ، فأخذَه رجلٌ (1) فَعَقَدَ له، فَوَضَعَه وطَرَحَه في بِئر رجلٍ من الأنصار، فأتاه مَلَكانِ يَعُودانِه (2)، فقعد أحدُهما عند رأسِه، وقعد الآخرُ عند رجليه، فقال أحدهما: أتدري ما وَجَعُه؟ قال: فلانٌ الذي كان يدخلُ عليه عَقَدَ له عُقَدًا، فألقاه في بئر فلانٍ الأنصاري، فلو أَرسل إليه رجلًا فأخذ منه العُقَدَ، فوجد الماءَ قد اصفرَّ، قال: وأخذَ العُقَدَ فحلَّها فيها، قال: فكان الرجلُ بعدُ يَدخُلُ على النبي ﷺ، فلم يذكر له شيئًا منه، ولم يُعاتِبْه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جایا کرتا تھا، اس نے آپ ﷺ پر جادو کر دیا اور (دھاگے میں) گرہیں لگا دیں، پھر اس نے اسے ایک انصاری شخص کے کنویں میں ڈال دیا۔ چنانچہ آپ ﷺ کے پاس دو فرشتے آپ ﷺ کی عیادت کے لیے آئے، ان میں سے ایک آپ ﷺ کے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا قدموں کی طرف، ایک نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کو کیا تکلیف ہے؟ دوسرے نے کہا: فلاں شخص جو آپ ﷺ کے پاس آتا تھا اس نے آپ ﷺ پر گرہیں لگا کر جادو کیا ہے اور اسے فلاں انصاری کے کنویں میں پھینک دیا ہے، اگر آپ ﷺ کسی کو بھیجیں تو وہ وہاں سے ان گرہوں کو نکال لائے۔ (چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) تو دیکھا کہ وہاں کا پانی زرد ہو چکا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے وہ گرہیں لیں اور انہیں کھول دیا (جس سے جادو کا اثر ختم ہو گیا)۔ وہ شخص اس کے بعد بھی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا لیکن آپ ﷺ نے کبھی اس سے اس کا ذکر کیا اور نہ ہی اسے ملامت کی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير التاجر، أخبرنا أبو حاتم محمد بن إدريس الحنظلي بالرَّي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أشعَثُ بن عبد الملك، عن الحسن: أنَّ أميرًا من أمراء الكوفة دعا ساحرًا يَلعَبُ بين يدي الناس، فبلغ جُندُبًا، فأقبل بسيفه واشتَمَلَ عليه، فلما رآه ضربَه بسيفه، فتفرَّق الناسُ عنه فقال: أيها الناسُ، لن تُراعَوا، إنما أردتُ الساحرَ، فأخذه الأميرُ فحبَسَه، فبلغ ذلك سلمانَ، فقال: بئسَ ما صَنَعا، لم يكن ينبغي لهذا وهو إمامٌ يُؤتَمُّ به يدعو ساحرًا يلعب بين يديه، ولا ينبغي لهذا أن يُعاتِبَ أميرَه بالسَّيف (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8075 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8075 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
حسن بصری سے روایت ہے کہ کوفہ کے امراء میں سے ایک امیر نے ایک جادوگر کو بلایا جو لوگوں کے سامنے کرتب دکھا رہا تھا، جب سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو وہ اپنی تلوار لے کر آئے جسے انہوں نے کپڑوں میں چھپا رکھا تھا، جب انہوں نے اسے دیکھا تو تلوار کے ایک وار سے اسے قتل کر دیا، لوگ وہاں سے تتر بتر ہو گئے تو انہوں نے فرمایا: ”اے لوگو! گھبراؤ نہیں، میں نے صرف جادوگر کو نشانہ بنانا تھا“، امیر نے انہیں پکڑ کر قید کر دیا، جب یہ بات سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”ان دونوں نے ہی برا کیا، اس امیر کو زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ ایک پیشوا (امام) ہو کر جادوگر کو کرتب دکھانے کے لیے بلائے، اور اس (جندب) کے لیے بھی یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ اپنے امیر کی اصلاح یا سرزنش تلوار کے ذریعے کرتا۔“