کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جس نے (زنا کی سزا) رجم کا انکار کیا اس نے گویا قرآن کا انکار کیا
حدثنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا شُعبة قال. وحدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو النُّعمان محمد بن الفضل، حدثنا حمّاد بن زيد؛ جميعًا عن عاصم، عن زِرّ، قال: قال لي أُبيُّ بن كعب: كأَيِّنْ تقرأُ سورةَ الأحزاب - أو كأَيِّنْ تَعُدُّ -؟ قال: قلتُ: ثلاثًا وسبعين آيةً، قال: قَطْ؟ قلت: قَطْ، قال: لقد رأيتُها وإنَّها لتَعدِلُ، البقرةَ، ولقد قرأنا فيما نقرأُ فيها: (الشَّيخُ والشَّيخةُ (2) إذا زَنَيا فارجُمُوهما البَتّةَ نَكَالًا الله، واللهُ عزيزٌ حَكِيمٌ) (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8068 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم سورہ احزاب کی کتنی آیات پڑھتے ہو یا اس کی کتنی آیات شمار کرتے ہو؟ میں نے کہا: تہتر (73) آیات۔ انہوں نے کہا: بس اتنی ہی؟ میں نے عرض کیا: جی بس اتنی ہی۔ انہوں نے فرمایا: میں نے اس سورت کو دیکھا ہے کہ یہ سورہ بقرہ کے برابر تھی، اور ہم اس میں یہ آیت بھی پڑھا کرتے تھے: «الشَّيخُ والشَّيخةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللّٰهِ، وَاللّٰهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» ”بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جب زنا کریں تو انہیں لازمی طور پر رجم (سنگسار) کر دو، یہ اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ہے، اور اللہ بہت غالب اور حکمت والا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8267
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن على نكارة في أوله لتفرّد عاصم» [ترقيم الرساله 8267] [ترقيم الشركة 8168] [ترقيم العلميه 8068]
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا محمد بن موسى الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق أخبرنا الحسين بن واقد، حدثنا يزيد النَّحْوي عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: مَن كفَرَ بالرَّجم فقد كَفَرَ بالقرآن من حيثُ لا يَحتسِبُ، قوله ﷿: ﴿يَاأَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ﴾ [المائدة: 15]، فكان الرَّجم مما أَحْفَوْا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8069 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جس نے رجم (سنگسار کرنے کی سزا) کا انکار کیا اس نے قرآن کا انکار کیا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہے، (پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی): ﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ﴾ [سورة المائدة: 15] ”اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارا رسول آ چکا ہے جو تمہارے لیے کتاب کی بہت سی ایسی باتیں ظاہر کرتا ہے جنہیں تم چھپاتے تھے۔“ چنانچہ رجم بھی ان باتوں میں سے تھا جسے انہوں نے چھپایا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8268
درجۂ حدیث محدثین: خبر قوي
تخریج حدیث «خبر قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن موسى الباشاني» [ترقيم الرساله 8268] [ترقيم الشركة 8169] [ترقيم العلميه 8069]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني الليث بن سعد، عن سعيد بن أبي هِلال، عن مروان بن عثمان، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنَيف، أنَّ خالته أخبرته قالت: لقد أَقرأَنا رسول الله ﷺ آية الرَّجْم: (الشَّيحُ والشَّيخة فارجُموهما البَتَّةَ بما قَضَيا من اللَّذّة) (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8070 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ ان کی خالہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں رجم کی یہ آیت پڑھائی تھی: «الشَّيخُ والشَّيخةُ فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ بِمَا قَضَيَا مِنَ اللَّذَّةِ» ”بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جب زنا کریں تو انہیں ان کی حاصل کردہ لذت کے بدلے لازمی رجم کر دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8269
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل مروان بن عثمان: وهو ابن أبي سعيد بن المعلى» [ترقيم الرساله 8269] [ترقيم الشركة 8170] [ترقيم العلميه 8070]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن المثنَّى ومحمد بن بشّار، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن قَتَادة، عن يونس بن جُبَير، عن كَثير بن الصَّلت قال: كان ابن العاص وزيدُ بن ثابت يَكتُبانِ المصاحفَ، فمَرًا على هذه الآية فقال زيد: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "الشيخُ والشيخةُ فارجُمُوهما البَتّةَ"، فقال عمرُ: لما أُنزلت أتيتُ النبيَّ ﷺ فقلتُ: أكتُبُها؟ فكأنه كَرِهَ ذلك. فقال له عمر: ألا ترى أنَّ الشيخ إذا زَنَى وقد أَحْصَنَ جُلِدَ ورُجِمَ، وإن لم يُحصَنْ جُلِدَ، وأنَّ الثيِّبَ إِذا زَنَى وقد أَحصَنَ رُجِمَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8071 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
کثیر بن صلت سے روایت ہے کہ ابن العاص اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مصاحف لکھ رہے تھے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زید نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جب زنا کریں تو ان دونوں کو لازمی رجم کر دو۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب یہ نازل ہوئی تھی تو میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ کیا میں اسے (قرآن میں) لکھ لوں؟ تو آپ ﷺ نے اسے ناپسند فرمایا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے (وضاحت کرتے ہوئے) کہا: کیا تم نہیں دیکھتے کہ بوڑھا مرد جب زنا کرے اور وہ محصن (شادی شدہ) ہو تو اسے کوڑے بھی لگائے جاتے ہیں اور رجم بھی کیا جاتا ہے، اور اگر وہ غیر محصن ہو تو اسے کوڑے لگائے جاتے ہیں، اور اسی طرح شادی شدہ جب زنا کرے اور وہ شادی شدہ ہو تو اسے رجم کیا جاتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8270
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8270] [ترقيم الشركة 8171] [ترقيم العلميه 8071]
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عبد الله بن خَيْران، حدثنا شُعبة، عن قَتَادة، عن يونس بن جُبير، عن كثير بن الصَّلت، عن زيد بن ثابت قال: سمعت رسولَ الله ﷺ يقول: "الشيخُ والشيخةُ فارجُمُوهما البَتَّةَ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت (جب زنا کریں تو) ان دونوں کو لازمی رجم کر دو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8271
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،كسابقه» [ترقيم الرساله 8271] [ترقيم الشركة 8172]