کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ کی غیرت کی وجہ سے بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا گیا ہے
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن عبد الملك بن عُمير، عن مولى للمغيرة بن شُعبة عن [المغيرة] (1) قال: ذُكِر لسعد بن عُبَادة رجلٌ (2) يأتي امرأةَ أبيه، فقال: لو أدركتُه لضربتُه بالسيف، فذكرتُ ذلك للنبي ﷺ، فقال: "أنا أَغْيرُ من سعدٍ، واللهُ أَغْيرُ مِنِّي، وما من أحدٍ أحبَّ إليه العذرُ من الله ﷿، من أجلِ ذلك بعثَ المرسلين، وما أحدٌ أحب إليه المَدحُ من الله ﷿، من أجلِ ذلك وَعَدَ الجنَّةَ." (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا عَوَانة سمَّى مولى المغيرة هذا في روايته، وأَتى بالمَتْن على وجهه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8060 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا عَوَانة سمَّى مولى المغيرة هذا في روايته، وأَتى بالمَتْن على وجهه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8060 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو اپنے باپ کی منکوحہ کے پاس آتا تھا، تو انہوں نے فرمایا: اگر میں اسے پا لیتا تو اسے اپنی تلوار سے مار دیتا، میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں سعد سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے، اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو عذر (توبہ و معذرت) زیادہ پسند نہیں ہے، اسی لیے اس نے رسولوں کو مبعوث فرمایا، اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو اپنی مدح و ثنا پسند نہیں، اسی لیے اس نے جنت کا وعدہ فرمایا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور امام ابوعوانہ نے اپنی روایت میں مغیرہ کے مولیٰ کا نام صراحت سے بیان کیا ہے اور متن کو اس کے اصل رخ پر لائے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور امام ابوعوانہ نے اپنی روایت میں مغیرہ کے مولیٰ کا نام صراحت سے بیان کیا ہے اور متن کو اس کے اصل رخ پر لائے ہیں۔
كما حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي، حدثنا أبو عَوَانة عن عبد الملك بن عُمير، عن ورَّاد كاتب المغيرة، عن المغيرة بن شُعْبة، قال: قال سعد بن عُبَادة: لو رأيتُ رجلًا مع امرأة .. (1) لضربتُه بالسيف غيرَ مُصْفَح، فبلغ ذلك رسولَ الله ﷺ، فقال: "أَتعجبونَ من غَيْرةِ سعد، فوالله لأنا أَغْيرُ منه، واللهُ أَغْيرُ مني، ومن أجل غَيْرَةِ الله حرَّمَ الفواحش ما ظهرَ منها وما بطَنَ، ولا شخصَ أَغْيرُ من الله، ولا شخصَ أحبُّ إليه العُذْرُ، من أجل ذلك بعثَ اللهُ المرسَلين مُبشِّرِينَ ومُنذِرين، ولا شخصَ أحبُّ إليه من الله، من أجل ذلك وَعَدَ الجنَّةَ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھ لوں تو اسے تلوار کے سیدھے رخ سے نہیں بلکہ دھار کی طرف سے ماروں گا، جب یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے، اور اللہ کی اسی غیرت کی وجہ سے اس نے تمام بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ، اور اللہ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں، اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو عذر (بندے کا توبہ کرنا) پسند نہیں، اسی لیے اس نے رسولوں کو خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو اپنی تعریف پسند نہیں، اسی لیے اس نے جنت کا وعدہ فرمایا۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا مُسلِم بن إبراهيم حدثنا شدَّاد بن سعيد، حدثنا سعيد بن إياس أبو مسعود الجُرَيري، عن أبي نَضْرة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "يا شبابُ قريش، لا تَزْنُوا، أَلَا مَن حَفِظَ فَرْجَه فله الجنَّةُ" (3)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8062 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8062 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے قریش کے جوانو! زنا نہ کرو، آگاہ رہو! جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اس کے لیے جنت ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر بن إسحاق من أصل كتابه، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا المُعافَى بن سليمان الحَرَّاني، حدثنا موسى بن أَعَين، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن سليمان بن يَسَار، عن عَقِيل مولى ابن عباس، عن أبي موسى، قال: كنتُ أنا وأبو الدَّرداء عند النبيِّ ﷺ، فسمعته يقول: "مَن حَفِظَ ما بينَ فُقْمَيهِ ورِجلَيهِ دخل الجنَّةَ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں اور ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس تھے تو میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اس چیز کی حفاظت کی جو اس کے دو جبڑوں «فُقْمَيهِ» اور اس کی دو ٹانگوں کے درمیان ہے، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“
وحدثني أبو بكر، أخبرنا محمد بن شاذانَ الجوهري، حدثنا مُعلَّى بن منصور، حدثنا موسى بن أَعيَن بهذا الإسناد مثلَه، غير أنه قال: عن عقيل (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8063 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8063 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
یہی روایت ایک دوسری سند سے بھی منقول ہے جس میں راوی کا نام عقیل بیان ہوا ہے۔