حدیث نمبر: 8260
كما حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي، حدثنا أبو عَوَانة عن عبد الملك بن عُمير، عن ورَّاد كاتب المغيرة، عن المغيرة بن شُعْبة، قال: قال سعد بن عُبَادة: لو رأيتُ رجلًا مع امرأة .. (1) لضربتُه بالسيف غيرَ مُصْفَح، فبلغ ذلك رسولَ الله ﷺ، فقال: "أَتعجبونَ من غَيْرةِ سعد، فوالله لأنا أَغْيرُ منه، واللهُ أَغْيرُ مني، ومن أجل غَيْرَةِ الله حرَّمَ الفواحش ما ظهرَ منها وما بطَنَ، ولا شخصَ أَغْيرُ من الله، ولا شخصَ أحبُّ إليه العُذْرُ، من أجل ذلك بعثَ اللهُ المرسَلين مُبشِّرِينَ ومُنذِرين، ولا شخصَ أحبُّ إليه من الله، من أجل ذلك وَعَدَ الجنَّةَ" (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھ لوں تو اسے تلوار کے سیدھے رخ سے نہیں بلکہ دھار کی طرف سے ماروں گا، جب یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے، اور اللہ کی اسی غیرت کی وجہ سے اس نے تمام بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ، اور اللہ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں، اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو عذر (بندے کا توبہ کرنا) پسند نہیں، اسی لیے اس نے رسولوں کو خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو اپنی تعریف پسند نہیں، اسی لیے اس نے جنت کا وعدہ فرمایا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8260
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8260] [ترقيم الشركة 8161]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ بياض قدر، كلمة، ومكانه في (ك): أبيه، وكلام المصنف عقب الحديث السابق يقتضي عدمَه، لأنه قال عن رواية أبي عوانة أتى بالمتن على وجهه ووجهه كما رواه الناس بلفظ: لو رأيت رجلًا مع امرأتي، كما سيأتي في التخريج.
نوٹ / توضیح: (1) نسخوں میں ایک لفظ کے بقدر خالی جگہ (سفیدی) ہے، اور نسخہ (ک) میں اس کی جگہ "أبیہ" (اس کے باپ) لکھا ہے۔ لیکن پچھلی حدیث کے بعد مصنف کا کلام اس لفظ (أبیہ) کے نہ ہونے کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے ابو عوانہ کی روایت کے بارے میں فرمایا کہ وہ متن کو اس کے درست رخ پر لائے ہیں جیسا کہ لوگوں نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "اگر میں کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھتا"، جیسا کہ تخریج میں آئے گا۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 30/ (18168) عن أبي الوليد هشام بن عبد الملك، بهذا الإسناد. ولفظه: لو رأيت رجلًا مع امرأتي لضربته بالسيف.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (30/18168) نے ابو الولید ہشام بن عبدالملک سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور ان کے الفاظ ہیں: "اگر میں کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھتا تو اسے تلوار سے مار دیتا"۔
وكذلك أخرجه البخاري (6846) و (7416)، ومسلم (1499)، وعبد الله بن أحمد في زوائده على "المسند" (18169)، وابن حبان (5773) من طرق عن أبي عوانة الوضاح اليشكري، به.
حوالہ / مصدر: اور اسی طرح اسے امام بخاری (6846، 7416)، مسلم (1499)، عبداللہ بن احمد نے "المسند" کے زوائد (18169) میں اور ابن حبان (5773) نے مختلف طرق سے ابو عوانہ وضاح یشکری سے (اسی سند کے ساتھ) روایت کیا ہے۔
قوله: "غير مصفح" بضم الميم وسكون الصاد المهملة وفتح الفاء وكسرها، أي: غير ضارب بعَرْضه، بل بحدِّه للقتل والإهلاك، لا بعَرْضه للزجر والإرهاب، قال القاضي عياض: فمن فتح جعله وصفًا للسيف وحالًا منه، ومن كسر جعله وصفًا للضارب وحالًا منه. قاله القسطلاني في "شرح البخاري".
نوٹ / توضیح: لفظ "غیر مصفح": میم پر پیش، صاد مہملہ ساکن، اور فا پر زبر یا زیر کے ساتھ ہے۔ اس کا مطلب ہے: تلوار کے چوڑے رخ سے مارنے والا نہ ہو، بلکہ اس کی دھار سے قتل اور ہلاک کرنے کے لیے مارے، نہ کہ چوڑے رخ سے ڈانٹنے اور ڈرانے کے لیے۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں: جس نے "فا" پر زبر پڑھی اس نے اسے تلوار کی صفت اور اس کا حال قرار دیا، اور جس نے زیر پڑھی اس نے اسے مارنے والے (ضارب) کی صفت اور حال قرار دیا۔ یہ بات قسطلانی نے "شرح البخاری" میں کہی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8260 سے ماخوذ ہے۔