أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا أسباط بن نصر الهَمْداني، حدثنا إسماعيل بن عبد الرحمن السُّدِّي، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: لا يَفتِكُ (1) المؤمنُ، الإيمانُ قَيَّدَ الفَتْكَ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8037 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8037 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن اچانک دھوکے سے قتل (فتک) نہیں کرتا، ایمان نے اچانک قتل کرنے کو مقید کر دیا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيّب، عن مروان بن الحَكَم، قال: دخلتُ مع معاوية على أمَّ المؤمنين عائشةَ، فقالت: يا معاويةُ، قتلتَ حُجْرًا وأصحابَه، وفعلتَ الذي فعلتَ، أمَا تَخشَى أن أَخبَأَ لك رجلًا فيقتلَك؟ قال: لا، إني في بيتَ أمانٍ، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "الإيمانُ قَيَّدَ الفَتْكَ، لا يَفْتِكُ مُؤمنٌ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8038 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8038 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
مروان بن حکم سے روایت ہے کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا: اے معاویہ! تم نے حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا اور جو کچھ تم نے کیا سو کیا، کیا تمہیں اس بات کا ڈر نہیں کہ میں کسی شخص کو چھپا کر بٹھا دوں جو تمہیں قتل کر دے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، میں امن والے گھر میں ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو پابند کر دیا ہے، مومن دھوکے سے قتل نہیں کرتا۔“
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن غالب، قال: دخل عمّارٌ على عائشة يومَ الجَمَل، فقال: السلامُ عليك يا أُمَّاه، قالت: لستُ لك بأمٍّ، قال: بلى إنك أُمِّي وإن كرهتِ قالت: مَن ذا الذي أسمع صوتَه معك؟ قال: الأشتَرُ، قالت: يا أشتَرُ، أنت الذي أردتَ أن تقتل ابنَ أختي؟ قال: لقد حَرَصتُ على قتلِه وحَرَصَ على قتلي، فلم نَقدِرْ، فقالت: أمَا والله لو قتلتَه ما أفلحتَ، فأما أنت يا عمارُ، فقد علمتَ أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا يُقتَلُ إلَّا أحدُ ثلاثةٍ: رجلٌ قتلَ رجلًا فقُتِلَ به، ورجلٌ زَنَى بعدما أَحْصَنَ، ورجلٌ ارتَدَّ عن الإسلام" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8039 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8039 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: اے میری ماں! آپ پر سلامتی ہو، انہوں نے فرمایا: میں تمہاری ماں نہیں ہوں، عمار نے کہا: کیوں نہیں، آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ کو ناگوار گزرے، سیدہ عائشہ نے پوچھا: یہ تمہارے ساتھ کس کی آواز سن رہی ہوں؟ انہوں نے کہا: اشتر کی، سیدہ نے فرمایا: اے اشتر! کیا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنا چاہا تھا؟ اشتر نے کہا: میں نے اسے قتل کرنے کی پوری کوشش کی اور اس نے مجھے، مگر ہم قادر نہ ہو سکے، سیدہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم اسے قتل کر دیتے تو کبھی فلاح نہ پاتے، پھر فرمایا: اے عمار! تمہیں تو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”کسی کو قتل نہیں کیا جائے گا سوائے تین میں سے ایک کے: وہ شخص جس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اسے بدلے میں قتل کیا جائے، وہ شادی شدہ جو زنا کرے، اور وہ جو اسلام سے پھر جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔