کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے کسی شخص کو امان دینے کے بعد قتل کیا، قیامت کے دن اس کے لیے غداری کا جھنڈا نصب ہوگا
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مهدي بن رُستُم الأصبهاني، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا قُرَّة بن خالد، عن عبد الملك بن عُمَير، قال حدثنا عامر بن شدَّاد، قال: كنتُ أبطَنَ (1) شيءٍ بالكذَّاب، أَدخلُ عليه بسيفي، فدخلتُ عليه ذاتَ يومٍ فقال: جئتَني واللهِ وقد قامَ جبريلُ عن هذا الكرسيَّ، فأهوَيتُ إلى قائمِ سيفي، فقلتُ: ما أنتظر أن أمشي بين رأسِه وجسدِه حتى ذكرتُ حديثًا حدَّثَناه عمرُو بن الحَمِق قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إذا اطمأنَّ الرجلُ إلى الرجل، ثم قَتَلَه بعدَما اطمأنَّ إليه، نصب له يومَ القيامة لِواءُ غَدْرٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8040 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8040 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عامر بن شداد سے روایت ہے کہ میں کذاب کے بھیدوں سے خوب واقف تھا، میں اپنی تلوار لے کر اس کے پاس جایا کرتا تھا، ایک دن میں اس کے پاس گیا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم میرے پاس اس وقت آئے ہو جب جبرئیل اس کرسی سے اٹھے ہیں، میں نے اپنی تلوار کے دستے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور سوچا کہ اس کی گردن اڑا دوں، مگر پھر مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جو ہمیں سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی شخص دوسرے پر بھروسہ کر لے (اسے امان دے دے) پھر وہ اسے قتل کر دے، تو قیامت کے دن اس کے لیے غداری کا جھنڈا نصب کیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أحمد بن كامل بن خلف القاضي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حذيفة (1)، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان عن عبد العزيز بن رُفيع، عن عُبيد بن عُمير، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا يَحِلُّ دمُ امريءٍ من أهلِ القِبْلة إلَّا بإحدى ثلاث: قَتَلَ فيُقتَل، والثيِّبُ الزاني، والمُفارِقُ للجماعة" أو قال: "الخارجُ من الجماعة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8041 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8041 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل قبلہ میں سے کسی شخص کا خون حلال نہیں مگر تین صورتوں میں: جس نے قتل کیا تو اسے بدلے میں قتل کیا جائے گا، شادی شدہ زانی، اور جماعت کو چھوڑ کر نکل جانے والا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
وقد أخبرَناه محمد بن محمد بن عبد الله (1)، حدثنا مَحْمِش (2) بن عِصام، حدثنا حفص بن عبد الله. وحدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلَوَي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ، حدثنا أحمد بن حفص، حدثني أبي، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان، عن منصور بن المُعتمِر، عن إبراهيم، عن أبي مَعْمَر، عن مسروق، عن عائشة أمِّ المؤمنين أنها قالت: لا يَحِلُّ دمُ أحدٍ من أهل القبلة إلَّا بإحدى ثلاث: رجلٌ قَتَلَ فيُقتَلُ به، والثيِّبُ الزاني، والمُفارِقُ للجماعة (3).
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اہل قبلہ میں سے کسی کا خون بہانا حلال نہیں مگر تین صورتوں میں: وہ شخص جس نے کسی کو قتل کیا تو اس کے بدلے اسے قتل کیا جائے، شادی شدہ زانی، اور جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔“
حدثنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان عن منصور، عن إبراهيم، عن أبي مَعمَر، عن مسروق، عن عائشة، عن النبيِّ ﷺ، مثلَه (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی روایت مروی ہے۔