کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ سرکش وہ ہے جو اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق ببغداد، حدثنا عبد الكريم بن الهيثم، حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع، أخبرنا (1) عبيد الله بن عبد الرحمن بن مَوْهَب قال: سمعتُ مالك بن محمد بن عبد الرحمن يُحدِّث عن عَمْرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة قالت: وُجِدَ في قائم سيف رسول الله ﷺ كتابان: "إِنَّ أَشدَّ الناس عُتوًّا: رجلٌ ضربَ غيرَ ضاربِه، ورجلٌ قتلَ غيرَ قاتلِه، ورجلٌ تولَّى غيرَ أهل نِعمَتِه، فمن فعلَ ذلك فقد كفَرَ بالله ورسولِه، ولا يُقبل منه صَرْفٌ ولا عَدْلٌ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهدُه حديثُ أبي شريح العَدَوي الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8024 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے دستے میں دو تحریریں پائی گئیں: ”بے شک لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش وہ ہے جو اسے مارے جس نے اسے نہیں مارا، اور وہ جو اسے قتل کرے جس نے (اس کے کسی عزیز کو) قتل نہیں کیا، اور وہ جو اپنے محسنوں کو چھوڑ کر دوسروں سے وفاداری کا رشتہ جوڑے، تو جس نے ایسا کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا، اور اس کا کوئی نفل یا فرض عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8222
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب، فهو مختلف فيه، ومالك بن محمد» [ترقيم الرساله 8222] [ترقيم الشركة 8123] [ترقيم العلميه 8024]
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بِشر بن المُفضَّل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن الزُّهْري، عن عطاء بن يزيد اللَّيثي، عن أبي شُرَيح العدوي قال: قال رسول الله ﷺ: "مِن أعتَى الناس على الله تعالى: مَن قتلَ غير قاتلِه، أو طَلَبَ بدم في الجاهلية من أهل الإسلام، ومَن بَصَّرَ عينيهِ في النوم ما لم تُبصِرْ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، إلَّا أنَّ يونس بن يزيد رواه عن الزُّهْري بإسناد آخر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ سرکش وہ شخص ہے جس نے اسے قتل کیا جس نے اسے قتل نہیں کیا تھا، یا جس نے اسلام میں آنے کے بعد جاہلیت کے کسی خون کا مطالبہ کیا، اور وہ شخص جس نے اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھنے کا جھوٹا دعویٰ کیا جو انہوں نے خواب میں نہیں دیکھا تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8223
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبد الرحمن بن إسحاق» [ترقيم الرساله 8223] [ترقيم الشركة 8124]
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا يونس بن يزيد، عن الزُّهْري، عن مسلم بن يزيد، عن أبي شُريح الكَعْبي، عن رسول الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8025 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہی ارشاد فرمایا۔ (یہ یونس بن زید کی زہری سے روایت کردہ دوسری سند ہے)۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8224
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل مسلم بن يزيد فقد انفرد بالرواية عنه الزهري، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، فهو مجهول» [ترقيم الرساله 8224] [ترقيم الشركة 8125] [ترقيم العلميه 8025]
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُريب ونصر بن علي، قالا حدثنا أبو أحمد الزُّبَيري (2)، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن، عن أبي موسى الأشعَري، عن النبيَّ ﷺ قال: "إذا أصبحَ إبليسُ بثَّ جنودَه، فيقول: مَن أضلَّ اليوم مسلمًا ألبستُه التاجَ، فيجيءُ أحدهم فيقول: لم أزَلْ به حتى عقَّ والدَه، فقال: يُوشِكُ أَن يَبَرَّه، ويجيءُ أحدُهم فيقول: لم أزَلْ به حتى ........ (3)، ويجيءُ أحدهم فيقول: لم أزَلْ به حتى طَلَّقَ امرأتَه، فيقول: يُوشِكُ أن يتزوَّج، ويجيء أحدهم فيقول: لم أَزْل به حتى أشرَكَ، فيقول: أنتَ أنتَ، ويجيءُ أحدُهم فيقول: لم أَزْل به حتى قَتَل، فيقول: أنتَ أنتَ، ويُلبِسُه التاجَ" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8027 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب صبح ہوتی ہے تو ابلیس اپنے لشکروں کو پھیلا دیتا ہے اور کہتا ہے: جو آج کسی مسلمان کو گمراہ کرے گا میں اسے تاج پہناؤں گا، چنانچہ ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے: میں اس کے پیچھے پڑا رہا یہاں تک کہ اس نے اپنے والدین کی نافرمانی کی، تو ابلیس کہتا ہے: قریب ہے کہ وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے لگے، پھر ایک اور آتا ہے اور (کسی دوسرے گناہ کا) ذکر کرتا ہے، پھر ایک اور آ کر کہتا ہے: میں اس کے پیچھے لگا رہا یہاں تک کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، تو وہ کہتا ہے: ممکن ہے کہ وہ دوبارہ نکاح کر لے، پھر ایک اور آ کر کہتا ہے: میں اس کا پیچھا نہیں چھوڑا یہاں تک کہ اس نے شرک کیا، تو وہ کہتا ہے: ہاں تو ہی ہے (جس نے بڑا کام کیا)، پھر ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے: میں اس وقت تک اس کے پیچھے رہا یہاں تک کہ اس نے قتل کر دیا، تو ابلیس کہتا ہے: ہاں تو ہی ہے، اور وہ اسے تاج پہناتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8225
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، ورواية الثوري عن عطاء بن السائب قبل اختلاط الأخير، لكن اختلف على سفيان في رفعه ووقفه كما سيأتي، وقد توبع سفيان على رفعه» [ترقيم الرساله 8225] [ترقيم الشركة 8126] [ترقيم العلميه 8027]