حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الإمام، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا زكريا بن يحيى، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثنا عبد الله بن دينار، عن ابن عمر قال: أقبَلَ رسولُ الله ﷺ على حمار، فلقيَه رجلٌ فقال: يا رسولَ الله، رجلٌ ترك عمَّتَه وخالتَه لا وارثَ له غيرُهما"، قال فرفع رأسَه إلى السماء، فقال: "اللهمَّ رجلٌ تركَ عمَّتَه وخالتَه لا وارثَ له غيرهما" ثم قال: "أين السائلُ؟ " قال: ها أنا ذا، قال: "لا ميراث لهما" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ عبد الله بن جعفر المَدِيني وإِن شَهِدَ عليه ابنُه بسُوءِ الحِفْظ، فليس ممن يُترَكُ حديثُه. وله شاهدٌ:
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ عبد الله بن جعفر المَدِيني وإِن شَهِدَ عليه ابنُه بسُوءِ الحِفْظ، فليس ممن يُترَكُ حديثُه. وله شاهدٌ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گدھے پر سوار ہو کر تشریف لا رہے تھے کہ ایک شخص آپ سے ملا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ایک شخص فوت ہو گیا ہے جس نے اپنی پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے اور ان کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ رَجُلٌ تَرَكَ عَمَّتَهُ وَخَالَتَهُ، لَا وَارِثَ لَهُ غَيْرُهُمَا» ”اے اللہ! ایک شخص نے اپنی پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے اور ان کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”سائل کہاں ہے؟“ اس نے عرض کیا: میں یہاں ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں کے لیے کوئی وراثت نہیں ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، کیونکہ اگرچہ عبداللہ بن جعفر مدینی کے بارے میں ان کے بیٹے نے سوء حفظ کی گواہی دی ہے، لیکن وہ ایسے راوی نہیں جن کی حدیث کو ترک کر دیا جائے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، کیونکہ اگرچہ عبداللہ بن جعفر مدینی کے بارے میں ان کے بیٹے نے سوء حفظ کی گواہی دی ہے، لیکن وہ ایسے راوی نہیں جن کی حدیث کو ترک کر دیا جائے۔
كما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أحمد بن هارون العُوْدي، حدثنا سليمان بن داود الشَّاذَكُوني، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، حدثنا محمد بن عمرو بن عَلقَمة، عن شَريك بن أبي نَمِرٍ، أنَّ الحارث بن عبدٍ (2) أخبره: أنَّ رسولَ الله ﷺ سُئِلَ عن ميراث العمَّة والخالة، فسكتَ، فنزل عليه جبريلُ ﵇ فقال: "حدَّثني جبريلُ أن لا ميراثَ لهما" (3).
حافظ طلحہ بابر
حارث بن عبد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پھوپھی اور خالہ کی وراثت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ خاموش رہے، پھر جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا: ”جبرائیل نے مجھے بتایا ہے کہ ان دونوں (پھوپھی اور خالہ) کے لیے کوئی میراث نہیں ہے۔“
أخبرَناه أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التَّميمي، حدثنا أبو نُعيم ضِرارُ بن صُرَد، عن عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْرِي: أنَّ النبي ﷺ رَكِبَ إلى قُباءٍ وعلى الحمار إكَافٌ، فقال: "أَستَخيرُ الله تعالى في ميراث العمَّةِ والخالة"، فأوحى الله تعالى إليه: أنْ لا ميراثَ لهما (1). فقد صحَّ حديث عبد الله بن جعفر بهذه الشواهد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ گدھے پر کجاوہ رکھ کر قباء کی طرف تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں پھوپھی اور خالہ کی میراث کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا طلبگار ہوں (یعنی وحی کا منتظر ہوں)۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ ان دونوں کے لیے کوئی وراثت نہیں ہے۔
عبداللہ بن جعفر کی حدیث ان شواہد کی بنا پر صحیح ثابت ہوتی ہے، اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
عبداللہ بن جعفر کی حدیث ان شواہد کی بنا پر صحیح ثابت ہوتی ہے، اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو عُبيد، حدثني سعيد بن عُفَير، حدثني عُلْوان بن داود [عن حُميد بن عبد الرحمن بن حُميد بن عبد الرحمن بن عَوف] (1) عن صالح بن كَيْسان، عن حُميد بن عبد الرحمن بن عَوف، عن أبيه قال: دخلتُ على أبي بكر الصِّدِّيق في مرضِه الذي ماتَ فيه أعودُه، فسمعتُه يقول: وَدِدتُ أني سألتُ النبيَّ ﷺ عن ميراثِ العمَّة والخالة، فإنَّ في نفسي منها حاجةً (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حمید بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مرض الوفات میں ان کی عیادت کے لیے گیا، تو میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: ”میری یہ خواہش تھی کہ میں نبی کریم ﷺ سے پھوپھی اور خالہ کی میراث کے متعلق پوچھ لیتا، کیونکہ میرے دل میں اس بارے میں تشنگی باقی ہے۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن خارجةَ بن زيد بن ثابت، عن أبيه قال: لا تَرِثُ العمَّةُ أختُ الأب (1) للأبِ والأمِّ، ولا الخالةُ، ولا مَن هو أبعدُ نسبًا من المُتوفَّى (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8000 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8000 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”پھوپھی، جو باپ کی سگی بہن ہو، وارث نہیں بنے گی، اور نہ ہی خالہ، اور نہ ہی وہ شخص جو میت سے نسب میں ان سے بھی دور ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس، حدثنا الحسن بن عفّان، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا الحسن بن صالح، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس أنه قال: هَيْهاتَ أينَ ابن مسعود، إنَّما كان المهاجرونَ يتوارثونَ دونَ الأعرابِ، فنزلَتْ ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ﴾ [الأنفال: 75] (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8001 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8001 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ایک قول کے جواب میں) فرمایا: ”بات کہاں سے کہاں چلی گئی، دراصل (ابتدا میں) مہاجرین ہی ایک دوسرے کے وارث بنتے تھے نہ کہ دیہاتی عرب، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾ [سورة الأنفال: 75] ”اور رشتہ دار اللہ کی کتاب کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔““
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔