کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اسلام میں زمانہ جاہلیت کے 'مساعاۃ' (غلاموں کی کمائی میں حصہ داری) کا کوئی تصور نہیں
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وعبد الله بن محمد بن موسى العَدْل قالا: حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا عمرو بن حُصَين العُقَيلي، حدثنا مُعتمِر بن سليمان، حدثنا سَلْم بن أبي الذَّيّال، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "لا مُساعاةَ في الإسلام، مَن ساعَي (1) في الجاهلية فقد أَلحَقتُهُ بعَصَبَتِه، ومن ادَّعى ولدًا من غير رِشْدةٍ لم يَرِثْ ولم يُورَثُ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7992 - لعله موضوع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7992 - لعله موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں «مساعاة» (لونڈی سے بدکاری کے ذریعے نسب کا دعویٰ کرنا) کی کوئی گنجائش نہیں، جس نے زمانہ جاہلیت میں ایسی کوئی کوشش کی تھی تو اسے میں نے اس کے عصبہ کے ساتھ ملحق کر دیا ہے، اور جس نے نکاح کے بغیر کسی (بدکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والے) بچے کے بارے میں (اپنے ہونے کا) دعویٰ کیا، وہ بچہ نہ تو (دعویٰ کرنے والے کا) وارث بنے گا اور نہ ہی اس کی وراثت لی جائے گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
ما أخبرَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا محمد بن بكَّار بن بلال، حدثنا محمد بن راشد عن سليمان بن موسى، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جدِّه، أنَّ النبيَّ ﷺ: قال: "مَن ادَّعى ولدًا من أَمَةٍ لا يَملِكُها، أو من حرَّةٍ عاهَرَ بها، فإنه لا يَلْحَقُ به ولا يَرِثُ، وهو ولدُ زِنًى لأهل أُمِّه مَن كانوا" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایسی لونڈی سے پیدا ہونے والے بچے کا دعویٰ کیا جس کا وہ مالک نہیں تھا، یا کسی ایسی آزاد عورت سے (بچے کا دعویٰ کیا) جس کے ساتھ اس نے بدکاری کی تھی، تو وہ بچہ اس (دعویٰ کرنے والے) کے ساتھ ملحق نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا وارث بنے گا، وہ ولد الزنا ہے اور اس کی ماں کے گھر والوں کا شمار ہوگا چاہے وہ جو بھی ہوں۔“
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذ، قالا: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا أبو إسحاق، عن الحارث، عن علي، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إن أعيانَ بني الأمِّ يتوارثونَ دونَ بنى العَلَّات" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7994 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7994 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سگے بہن بھائی (ماں اور باپ دونوں کی طرف سے شریک) ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، سوتیلے (صرف باپ کی طرف سے شریک) بھائیوں کے مقابلے میں۔“
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حدثنا زكريا بن عَديّ، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله قال: جاءت امرأةُ سعد بن الرَّبيع فقالت: يا رسولَ الله، هاتانِ ابنتا سعد بن الرَّبيع، قُتل أبوهما معكَ يومَ أُحدٍ شهيدًا، وإنَّ عمَّهما أخذَ مالَهما فلم يَدَعْ لهما مالًا، فقال: "يَقضِي اللهُ في ذلك" قال: فنزلت آيةُ الميراث، فأرسلَ رسولُ الله ﷺ إلى عمِّهما، فقال: "أعطِ ابنتَيْ سعدٍ الثُّلثَينِ، وأُمَّهما الثّمنَ، وما بقيَ فهو لك" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (نبی کریم ﷺ کی خدمت میں) حاضر ہوئیں اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ سعد بن ربیع کی دو بیٹیاں ہیں، ان کے والد آپ کے ساتھ جنگ احد میں شہید ہو گئے تھے، اب ان کے چچا نے ان کا سارا مال لے لیا ہے اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر وراثت کی آیت نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے چچا کو پیغام بھیجا اور فرمایا: ”سعد کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی حصہ دو، ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دو، اور جو باقی بچ جائے وہ تمہارا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔