حدیث نمبر: 8195
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الإمام، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا زكريا بن يحيى، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثنا عبد الله بن دينار، عن ابن عمر قال: أقبَلَ رسولُ الله ﷺ على حمار، فلقيَه رجلٌ فقال: يا رسولَ الله، رجلٌ ترك عمَّتَه وخالتَه لا وارثَ له غيرُهما"، قال فرفع رأسَه إلى السماء، فقال: "اللهمَّ رجلٌ تركَ عمَّتَه وخالتَه لا وارثَ له غيرهما" ثم قال: "أين السائلُ؟ " قال: ها أنا ذا، قال: "لا ميراث لهما" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ عبد الله بن جعفر المَدِيني وإِن شَهِدَ عليه ابنُه بسُوءِ الحِفْظ، فليس ممن يُترَكُ حديثُه. وله شاهدٌ:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گدھے پر سوار ہو کر تشریف لا رہے تھے کہ ایک شخص آپ سے ملا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ایک شخص فوت ہو گیا ہے جس نے اپنی پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے اور ان کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ رَجُلٌ تَرَكَ عَمَّتَهُ وَخَالَتَهُ، لَا وَارِثَ لَهُ غَيْرُهُمَا» ”اے اللہ! ایک شخص نے اپنی پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے اور ان کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”سائل کہاں ہے؟“ اس نے عرض کیا: میں یہاں ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں کے لیے کوئی وراثت نہیں ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، کیونکہ اگرچہ عبداللہ بن جعفر مدینی کے بارے میں ان کے بیٹے نے سوء حفظ کی گواہی دی ہے، لیکن وہ ایسے راوی نہیں جن کی حدیث کو ترک کر دیا جائے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفرائض / حدیث: 8195
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن جعفر: وهو ابن نجيح المَديني» [ترقيم الرساله 8195] [ترقيم الشركة 8095]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن جعفر: وهو ابن نجيح المَديني. وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"، فقال: ولا احتجَّ به أحد.
درجۂ حدیث: اس کی سند عبداللہ بن جعفر (ابن نجیح المدینی) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ذہبی نے "التلخیص" میں اسے معلول قرار دیا اور کہا: "کسی نے اس سے حجت نہیں پکڑی۔"
ولم نقف على من أخرجه غير المصنف. وانظر ما بعده.
فنی نکتہ / علّت: مصنف کے علاوہ ہمیں کوئی نہیں ملا جس نے اس کی تخریج کی ہو۔ اس کے بعد والی روایت دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8195 سے ماخوذ ہے۔