المستدرك على الصحيحين
كتاب الفرائض— وراثت کے متعلق روایات
لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ باب: اسلام میں زمانہ جاہلیت کے 'مساعاۃ' (غلاموں کی کمائی میں حصہ داری) کا کوئی تصور نہیں
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حدثنا زكريا بن عَديّ، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله قال: جاءت امرأةُ سعد بن الرَّبيع فقالت: يا رسولَ الله، هاتانِ ابنتا سعد بن الرَّبيع، قُتل أبوهما معكَ يومَ أُحدٍ شهيدًا، وإنَّ عمَّهما أخذَ مالَهما فلم يَدَعْ لهما مالًا، فقال: "يَقضِي اللهُ في ذلك" قال: فنزلت آيةُ الميراث، فأرسلَ رسولُ الله ﷺ إلى عمِّهما، فقال: "أعطِ ابنتَيْ سعدٍ الثُّلثَينِ، وأُمَّهما الثّمنَ، وما بقيَ فهو لك" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (نبی کریم ﷺ کی خدمت میں) حاضر ہوئیں اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ سعد بن ربیع کی دو بیٹیاں ہیں، ان کے والد آپ کے ساتھ جنگ احد میں شہید ہو گئے تھے، اب ان کے چچا نے ان کا سارا مال لے لیا ہے اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر وراثت کی آیت نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے چچا کو پیغام بھیجا اور فرمایا: ”سعد کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی حصہ دو، ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دو، اور جو باقی بچ جائے وہ تمہارا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند عبداللہ بن محمد بن عقیل کی وجہ سے "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (23/ 14798) اور ترمذی (2092) نے زکریا بن عدی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حديث حسن صحيح، لا نعرفه إلَّا من حديث عبد الله بن محمد بن عقيل.
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: "یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کی حدیث سے جانتے ہیں۔"
وسلف برقم (8153).
نوٹ / توضیح: یہ پیچھے نمبر (8153) پر گزر چکی ہے۔