کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ولاء (آزاد کردہ غلام کا رشتہ) نسب کے رشتے کی طرح ایک جوڑ ہے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب عَوْدًا على بَدْءٍ، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا الشافعي، أخبرنا محمد بن الحسن عن أبي يوسف، عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر، أنَّ النبي ﷺ قال: "الوَلاءُ لُحْمَةٌ كلُّحْمةِ النَّسَب، لا يُباع ولا يُوهَبُ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”«الولاء» (آزاد کردہ غلام اور مالک کا تعلق) نسب کے رشتے کی طرح ایک مضبوط تعلق ہے، اسے نہ تو فروخت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہبہ (تحفہ) کیا جا سکتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
وقد حدَّثَناه عبد الرحمن بن حَمْدان، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن مِهْران، حدثنا يحيى بن سُلَيم الطائفي (1)، عن إسماعيل بن أُميّة، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبيِّ ﷺ قال: "الولاء لُحْمةٌ من النَّسَب، لا يُباعُ ولا يُوهَب" (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7991 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7991 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”«الولاء» (ولایت کا تعلق) نسب کا ایک حصہ ہے، اسے نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو ہبہ کیا جا سکتا ہے۔“