کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت میں وراثت کے احکام کے سب سے بڑے ماہر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وأبو يحيى أحمد بن محمد السَّمَرقندي، قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر الإمام، حدثنا أبو بكر محمد (1) ابن خلَّاد الباهِلي، حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد، حدثنا خالد الحذَّاء، عن أبي قِلابة، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "أفرَضُ أمَّتي زيدُ بنُ ثابت" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7962 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7962 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں فرائض (علمِ وراثت) کے سب سے بڑے ماہر زید بن ثابت ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعْبة، عن منصور، عن إبراهيم، عن عَلقَمة، عن عبد الله قال: أُتِيَ عمرُ في امرأةٍ وأبَوَينِ، فجعل للمرأة الرُّبعَ، وللأمِّ ثُلثَ ما بقيَ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7963 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7963 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسی بیوی (بیوہ) اور والدین کا معاملہ لایا گیا (جس میں میت نے بیوہ اور ماں باپ چھوڑے تھے)، تو انہوں نے بیوہ کے لیے چوتھائی (1/4) حصہ مقرر کیا اور ماں کے لیے باقی ماندہ مال کا ایک تہائی (1/3) حصہ مقرر کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن سفيان، عن أبيه سعيد بن مسروق، عن المسيَّب بن رافع، عن عبد الله بن مسعود قال: ما كان اللهُ تعالى ليَراني أفضِّلُ أُمًّا على جَدٍّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7964 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7964 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مجھے اس حال میں نہ دیکھے کہ میں (وراثت میں) ماں کو دادا پر فضیلت دوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔