کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جہنم میں ایک ایسا کنواں ہے جس میں ہر جابر و سرکش رہے گا
حدثنا أبو بكر محمد بن داود الزاهد، حدثنا الفضل بن الحُبَاب إملاءً من أصله العَتيق، وأنا سألتُه، حدثنا علي بن عبد الله بن جعفر المَدِيني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا أزهر بن سِنان أبو خالد مولًى لقريش، قال: سمعتُ محمد بن واسع الأزدي، يقول: دخلتُ على بلال بن أبي بُرْدة بن أبي موسى، فقلتُ: يا بلال، إنَّ أباك حدثني عن جدِّك عن رسول الله ﷺ أنه قال: " [إِنَّ] في جهنَّم واديًا، وفي الوادي بئرٌ يقال لها: هَبْهَبُ (1)، حقٌّ على الله أن يُسكِنَها كلَّ جبّار"، فاتَّقِ لا تَسكُنْها (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7946 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
محمد بن واسع ازدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں بلال بن ابی بردہ بن ابی موسیٰ کے پاس گیا اور کہا: اے بلال! تمہارے والد نے تمہارے دادا کے واسطے سے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جہنم میں ایک وادی ہے اور اس وادی میں ایک کنواں ہے جسے «هَبْهَبُ» کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ وہ اس میں ہر جابر و سرکش کو ٹھکانا دے گا“، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو کہ کہیں اس کے باسی نہ بن جاؤ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8145
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف من أجل أزهر بن سنان» [ترقيم الرساله 8145] [ترقيم الشركة 8045] [ترقيم العلميه 7946]
أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر المَروَزي، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عمر بن عبد الوهاب الرِّيَاحي، عن الحجَّاج الأسود، عن محمد بن واسع، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "أحِبُّوا الفقراءَ وجالِسُوهم، وأحِبَّ العربَ من كلِّ قلبِك، ولْيرُدَّك عن الناس ما تعلمُ من قلبِك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان عمر الرِّياحي سمع من حجّاج الأسود. آخر كتاب الرقاق [كتاب الفرائض] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7947 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم فقراء سے محبت کرو اور ان کے پاس بیٹھا کرو، اور اپنے پورے دل سے عربوں سے محبت کرو، اور تمہیں لوگوں (کی عیب جوئی) سے وہ چیز روک دے جو تم اپنے دل (کی کوتاہیوں) کے بارے میں جانتے ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ عمر ریحی نے حجاج اسود سے سماع کیا ہو۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8146
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ بين وفاتَي عمر الرياحي والحجاج الأسود» [ترقيم الرساله 8146] [ترقيم الشركة 8046] [ترقيم العلميه 7947]