المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والی روایات
فِي جَهَنَّمَ بِئْرٌ يَسْكُنُهَا كُلُّ جَبَّارٍ باب: جہنم میں ایک ایسا کنواں ہے جس میں ہر جابر و سرکش رہے گا
حدیث نمبر: 8146
أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر المَروَزي، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عمر بن عبد الوهاب الرِّيَاحي، عن الحجَّاج الأسود، عن محمد بن واسع، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "أحِبُّوا الفقراءَ وجالِسُوهم، وأحِبَّ العربَ من كلِّ قلبِك، ولْيرُدَّك عن الناس ما تعلمُ من قلبِك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان عمر الرِّياحي سمع من حجّاج الأسود. آخر كتاب الرقاق [كتاب الفرائض] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7947 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم فقراء سے محبت کرو اور ان کے پاس بیٹھا کرو، اور اپنے پورے دل سے عربوں سے محبت کرو، اور تمہیں لوگوں (کی عیب جوئی) سے وہ چیز روک دے جو تم اپنے دل (کی کوتاہیوں) کے بارے میں جانتے ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ عمر ریحی نے حجاج اسود سے سماع کیا ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ بين وفاتَي عمر الرياحي والحجاج الأسود - وهو ابن أبي زياد - ما يقرب من 76 سنة، فيبعد أن يكون عمر الرياحي سمعه منه، وشكُّ الحاكم في سماعه منه في محلِّه. ثم إنَّ متن الحديث فيه نكارة ليس عليه نور النبوّة. ولم نقف على من أخرجه غير المصنف.
درجۂ حدیث: اس کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عمر الریاحی اور حجاج الاسود (جو ابن ابی زیاد ہیں) کی وفات کے درمیان تقریباً 76 سال کا فاصلہ ہے، لہٰذا یہ بعید ہے کہ عمر الریاحی نے ان سے سماع کیا ہو؛ چنانچہ حاکم کا ان کے سماع میں شک کرنا بالکل بجا ہے۔
اہم نکتہ: مزید برآں حدیث کے متن میں نکارت (اجنبیت) ہے اور اس پر نبوت کا نور (یعنی شانِ رسالت) محسوس نہیں ہوتا۔ مصنف (امام) کے علاوہ ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جس نے اس روایت کی تخریج کی ہو۔
وفي باب حب العرب انظر ما سلف برقمي (7129) و (7174) و (7175).
حوالہ / مصدر: "حبِ عرب" کے باب میں گزشتہ احادیث نمبر (7129)، (7174) اور (7175) ملاحظہ فرمائیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عمر الریاحی اور حجاج الاسود (جو ابن ابی زیاد ہیں) کی وفات کے درمیان تقریباً 76 سال کا فاصلہ ہے، لہٰذا یہ بعید ہے کہ عمر الریاحی نے ان سے سماع کیا ہو؛ چنانچہ حاکم کا ان کے سماع میں شک کرنا بالکل بجا ہے۔
اہم نکتہ: مزید برآں حدیث کے متن میں نکارت (اجنبیت) ہے اور اس پر نبوت کا نور (یعنی شانِ رسالت) محسوس نہیں ہوتا۔ مصنف (امام) کے علاوہ ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جس نے اس روایت کی تخریج کی ہو۔
وفي باب حب العرب انظر ما سلف برقمي (7129) و (7174) و (7175).
حوالہ / مصدر: "حبِ عرب" کے باب میں گزشتہ احادیث نمبر (7129)، (7174) اور (7175) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8146 سے ماخوذ ہے۔