المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والی روایات
حَسْبُ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثُ أُكْلَاتٍ يُقِمْنَ صُلْبَهُ باب: ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں
حدیث نمبر: 8144
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عوف، حدثنا أبو المغيرة، حدثنا سليمان بن سُليم أبو سَلَمة الكِناني، حدثني يحيى بن جابر الطائي، قال: سمعتُ المِقْدام بن مَعْدِي كَرِبَ الكِندي يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "ما مَلأَ آدميٌّ وعاءً شرًا من بَطْنِه حَسْبُ ابن آدمَ ثلاثُ أُكلاتٍ يُقِمَنَ صُلْبَه، فإن كان لا محالةَ، فثُلثٌ طعامٌ، وثُلثٌ شرابٌ، وثُلثٌ لنَفَسِه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7945 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ابنِ آدم نے اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا، ابنِ آدم کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں، لیکن اگر (زیادہ کھانا) ناگزیر ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی اپنی سانس کے لیے (خالی) رکھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. محمد بن عوف هو ابن سفيان الطائي، وشيخه أبو المغيرة: هو عبد القدوس بن الحجاج الخولاني.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: 1. محمد بن عوف: یہ ابن سفیان الطائی ہیں۔ 2. ان کے شیخ ابو المغیرہ: یہ عبد القدوس بن حجاج الخولانی ہیں۔
وأخرجه أحمد 28 / (17186) عن أبي المغيرة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (28/ 17186) نے ابو المغیرہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (2380)، والنسائي (6738) من طريقين عن أبي سلمة سليمان بن سليم، عن يحيى بن جابر، به. وقرن الترمذي بأبي سلمة حبيب بن صالح، وقال: حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2380) اور نسائی (6738) نے دو طریقوں سے ابو سلمہ سلیمان بن سلیم، از یحییٰ بن جابر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ترمذی نے ابو سلمہ کے ساتھ حبیب بن صالح کو بھی ملایا (مقرون کیا) ہے اور فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
وسلف عند المصنف برقم (7316)
حوالہ / مصدر: یہ مصنف کے ہاں پیچھے نمبر (7316) پر گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: 1. محمد بن عوف: یہ ابن سفیان الطائی ہیں۔ 2. ان کے شیخ ابو المغیرہ: یہ عبد القدوس بن حجاج الخولانی ہیں۔
وأخرجه أحمد 28 / (17186) عن أبي المغيرة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (28/ 17186) نے ابو المغیرہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (2380)، والنسائي (6738) من طريقين عن أبي سلمة سليمان بن سليم، عن يحيى بن جابر، به. وقرن الترمذي بأبي سلمة حبيب بن صالح، وقال: حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2380) اور نسائی (6738) نے دو طریقوں سے ابو سلمہ سلیمان بن سلیم، از یحییٰ بن جابر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ترمذی نے ابو سلمہ کے ساتھ حبیب بن صالح کو بھی ملایا (مقرون کیا) ہے اور فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
وسلف عند المصنف برقم (7316)
حوالہ / مصدر: یہ مصنف کے ہاں پیچھے نمبر (7316) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8144 سے ماخوذ ہے۔