کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کا ایک اعرابی کو اپنے آپ سے قصاص لینے کی دعوت دینا
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر بن يزيد القارئ الأَدَمي ببغداد، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن ناصح النَّحْوي، حدثنا محمد بن مصعب القَرْقَساني، حدثني عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، حدثني مكحول، عن زياد بن جارية، عن حَبيب بن مَسلَمة: أنَّ رسول الله ﷺ دعا إلى القِصَاص من نفسِه في خَدْشَةٍ خَدَشَهَا أعرابيًا لم يتَعمَّدْه، فأتاه جبريلُ ﵇ فقال: يا محمَّدُ، إِنَّ الله لم يَبْعَثْكَ جبّارًا ولا متكبِّرًا. فدعا النبي ﷺ الأعرابيَّ، فقال: "اقتص منِّي"، فقال الأعرابيُّ: قد أحللتُك بأبي أنت وأميِّ، وما كنتُ لأفعلَ ذلك أبدًا ولو أتيتَ على نفسي. فدعا له بخيرٍ (1). قال الحاكم: تفرَّد به أحمدُ بن عبيد عن محمد بن مصعب، ومحمدُ بن مصعب ثقةٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7943 - قال ابن عدي أحمد بن عبيد صدوق له مناكير ومحمد ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7943 - قال ابن عدي أحمد بن عبيد صدوق له مناكير ومحمد ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دیہاتی کو ایسی خراش کے بدلے جو آپ ﷺ سے غیر ارادی طور پر اسے لگی تھی، اپنی ذات سے قصاص لینے کی دعوت دی، تو جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا: اے محمد! اللہ نے آپ کو جابر اور متکبر بنا کر نہیں بھیجا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اس دیہاتی کو بلایا اور فرمایا: ”مجھ سے بدلہ لے لو۔“ تو اس دیہاتی نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ کو معاف کیا اور میں کبھی ایسا نہیں کروں گا خواہ آپ میری جان بھی لے لیتے۔ پھر آپ ﷺ نے اس کے لیے خیر کی دعا فرمائی۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اسے احمد بن عبید نے محمد بن مصعب سے روایت کرنے میں انفراد کیا ہے، اور محمد بن مصعب ثقہ ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اسے احمد بن عبید نے محمد بن مصعب سے روایت کرنے میں انفراد کیا ہے، اور محمد بن مصعب ثقہ ہیں۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفّان، حدثنا همَّام، حدثني إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أبيه، عن أبي ذرٍّ: أنه أتى النبيَّ ﷺ فقال: إِنِّي أحبُّكم أهلَ البيت، فقال له النبيُّ ﷺ: "اللهِ؟ " قال: آلله، قال: "فأعِدَّ للفقر تِجْفافًا، فإنَّ الفقر أسرعُ إلى من يُحبُّنا من السَّيلِ من أعلى الأكَمَةِ إلى أسفلِها" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7944 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7944 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں آپ اہل بیت سے محبت کرتا ہوں، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا واقعی اللہ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر فقر (تنگدستی) کے لیے ڈھال تیار کر لو، کیونکہ جو ہم سے محبت کرتا ہے اس تک فقر بلندی سے نیچے کی طرف بہنے والے سیلاب سے بھی زیادہ تیزی سے پہنچتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔