کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جو اللہ سے کما حقہ حیا کرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے سر اور اس میں موجود خیالات کی حفاظت کرے
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله بن محمد إبراهيم العَبْدي، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا مروان بن معاوية، عن أبان بن إسحاق، عن الصَّباح (3)، عن مُرَّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ نبيَّ الله ﷺ قال: "استَحْيوا من الله حقَّ الحياء فقلنا: يا نبيَّ الله إنا لَنستَحْيي، قال: "ليسَ ذلك، ولكن مَن استَحْيا من الله حق الحياءِ، فليَحفَظ الرأسَ وما حَوَى، والبطن وما وَعَى، وليَذكُرِ الموتَ والبِلَى، ومن أرادَ الآخرة تَركَ زينةَ الدُّنيا، ومن فعلَ ذلك فقد استَحْيا من الله حقَّ الحياء" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7915 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے ویسا حیا کرو جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم (الحمدللہ) حیا کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا مطلب یہ نہیں ہے، بلکہ جو اللہ سے کما حقہ حیا کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ سر اور جو اس (دماغ و حواس) نے سمیٹا ہے اس کی حفاظت کرے، اور پیٹ اور جو اس نے (غذا و خیالات) جمع کیا ہے اس کا خیال رکھے، اور موت اور (قبر میں) بوسیدہ ہونے کو یاد رکھے۔ اور جس نے آخرت کا ارادہ کر لیا وہ دنیا کی زینت کو چھوڑ دیتا ہے، پس جس نے یہ سب کیا اس نے یقیناً اللہ سے ویسا حیا کیا جیسا حیا کرنے کا حق ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8113
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف الصباح وهو ابن محمد بن أبي حازم الأحمسي الكوفي» [ترقيم الرساله 8113] [ترقيم الشركة 8014] [ترقيم العلميه 7915]
حدثني علي بن بُنْدار، الزاهد، حدثنا محمد بن المسيَّب، حدثني أحمد بن بكر البالِسي، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا سفيان الثَّوري، عن عوف، عن الحسن بن أبي الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "يأتي على الناس زمانٌ يَتحلَّقونَ في مساجدِهم وليس هِمَّتُهم إلَّا الدنيا، ليس الله فيهم حاجةٌ، فلا تُجالِسُوهم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7916 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ اپنی مسجدوں میں حلقے بنا کر بیٹھیں گے لیکن ان کا نصب العین صرف دنیا ہی ہو گا، اللہ کو ایسے لوگوں کی کوئی حاجت نہیں، پس تم ان کے پاس مت بیٹھا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8114
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرّة لضعف أحمد بن بكر البالسي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرّة لضعف أحمد بن بكر البالسي، وقال ابن عدي: روى أحاديث مناكير عن الثقات، وزيد بن الحباب في حديثه عن الثَّوري لين» [ترقيم الرساله 8114] [ترقيم الشركة 8015] [ترقيم العلميه 7916]
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن (2)، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا النُّفَيلي، حدثنا مَخَلد بن يزيد، حدثنا بَشير بن زاذان (3)، عن سيَّار أبي الحَكَم، عن طارق بن شِهَاب، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ: "اقتَرَبَت الساعةُ ولا يَزدادُ الناسُ على الدنيا إلَّا حرصًا، ولا يزدادون من الله إلَّا بُعدًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7917 - هذا منكر
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت قریب آ پہنچی ہے جبکہ لوگوں کی دنیا کے لیے حرص و لالچ میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اور وہ اللہ سے دور ہی ہوتے جا رہے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8115
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 8115] [ترقيم الشركة 8016] [ترقيم العلميه 7917]