المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والی روایات
أَشْقَى الِأَشْقِيَاءِ مَنِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ فَقْرُ الدُّنْيَا وَعَذَابُ الْآخِرَةِ باب: بدبختوں میں سب سے بڑا بدبخت وہ ہے جس پر دنیا کی فقیری اور آخرت کا عذاب جمع ہو جائے
حدیث نمبر: 8111
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى الهلالي، حدثنا عمرو بن عاصم الكلابي، حدثنا همَّام بن يحيى، حدثنا قَتَادة، عن مُطرِّف بن عبد الله، عن أبيه قال: انَتهيتُ إلى النبيِّ ﷺ وهو يقرأُ: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ قال: "يقول ابن آدم: مالي مالي، وهل لك مِن مالِك إِلَّا ما لَبِستَ فأبلَيتَ، أو أكلت فأفنَيتَ، أو تصدّقتَ فأمضَيتَ؟! " (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7913 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا مطرف بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ یہ تلاوت فرما رہے تھے: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ [سورة التكاثر: 1-2] آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال! حالانکہ (اے انسان!) تیرے مال میں سے تیرے لیے صرف وہی ہے جو تو نے کھا کر ختم کر دیا، یا پہن کر پرانا کر دیا، یا صدقہ دے کر (اپنے آگے) بھیج دیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عمرو بن عاصم الكلابي، وقد توبع. وأخرجه أحمد 26 / (16327) و (16328)، ومسلم (2958) من طرق عن همام، بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهول منه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند عمرو بن عاصم الکلابی کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (26/ 16327، 16328) اور مسلم (2958) نے ہمام کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کا ذہول (بھول/غفلت) ہے (کیونکہ یہ صحیح مسلم میں موجود ہے)۔
وسلف برقم (4013) من طريق هشام الدستوائي عن قتادة.
حوالہ / مصدر: یہ پیچھے نمبر (4013) پر ہشام الدستوائی از قتادہ کے طریق سے گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند عمرو بن عاصم الکلابی کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (26/ 16327، 16328) اور مسلم (2958) نے ہمام کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کا ذہول (بھول/غفلت) ہے (کیونکہ یہ صحیح مسلم میں موجود ہے)۔
وسلف برقم (4013) من طريق هشام الدستوائي عن قتادة.
حوالہ / مصدر: یہ پیچھے نمبر (4013) پر ہشام الدستوائی از قتادہ کے طریق سے گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8111 سے ماخوذ ہے۔