أخبرني أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا يحيى بن بشر الحَرِيري، حدثنا معاوية بن سلّام، عن يحيى بن أبي كثير، أخبرني أبو قِلابةَ، أن عبد الرحمن بن شَيْبة أخبره، أنَّ أُمّ المؤمنين عائشة أخبرته، أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "إنَّ الصالحين يُشدَّدُ عليهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7901 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7901 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ نیک لوگوں پر آزمائشیں سخت کر دی جاتی ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا عبد الباقي بن قانع الحافظ ببغداد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن الحسين المروَزي، حدثنا إسحاق بن بِشر، حدثنا مُقاتِل بن سليمان، عن حمّاد، عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد عن ابن مسعود، عن النبيِّ ﷺ قال: "مَن أصبحَ وهمُّه غيرُ الله فليسَ من الله في شيء، ومن لم يَهتمَّ للمسلمين فليس منهم (2) " (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7902 - إسحاق ومقاتل ليسا بثقتين ولا صادقين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7902 - إسحاق ومقاتل ليسا بثقتين ولا صادقين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اس حال میں صبح کی کہ اس کا (اصل) مقصد اور فکر اللہ کے سوا کچھ اور تھی، تو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں؛ اور جو مسلمانوں کے امور (اور ان کے دکھ درد) کی فکر نہیں کرتا، وہ ان میں سے نہیں ہے۔“
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأَوَيسي، حدثنا سليمان بن بلال، عن عباس بن عبد الله بن مَعْبَد بن عباس، عن أخيه إبراهيم (1)، عن ابن عباس، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "هكذا الإخلاصُ" يُشير بإصبعه التي تَلِي الإبهامَ "وهذا الدعاءُ" فرفعَ يديه حَذْوَ مَنكِبَيه "وهذا الابتهالُ" فرفع يديه مدًّا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7903 - ذا منكر بمرة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7903 - ذا منكر بمرة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اخلاص اس طرح ہے“ اور آپ ﷺ نے اپنی اس انگلی سے اشارہ فرمایا جو انگوٹھے کے قریب ہے (یعنی کلمہ کی انگلی)، ”اور دعا اس طرح ہے“ اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھائے، ”اور ابتهال (انتہائی عاجزی سے گڑگڑا کر دعا مانگنا) اس طرح ہے“ اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر کی طرف پھیلا کر اٹھائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔