کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: دنیا کی ایک اور مثال کا بیان
أخبرنا عبد العزيز بن عبد الله السِّمسار الورَّاق، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبيد الله بن محمد العيشي، حدثنا حماد سَلَمة بن عن عاصم، عن أبي وائل، عن ابن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ الله تعالى جعل الدنيا كلَّها قليلًا، وما بقيَ منها إلَّا القليلُ من القليل، ومثلُ ما بَقي منها كالثَّغَب - يعني: الغَدِير - شُرِبَ صَفْوُه وبَقِيَ كَدَرُه" (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7904 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو بہت تھوڑا قرار دیا ہے، اور اس (تھوڑی دنیا) میں سے بھی اب بہت ہی تھوڑا حصہ باقی رہ گیا ہے، اور دنیا کے اس بقیہ حصے کی مثال اس حوض کی سی ہے جس کا صاف پانی پی لیا گیا ہو اور اب اس میں صرف گدلا پانی باقی رہ گیا ہو۔“
اس کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8102
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا، وهذا إسناد ضعيف من أجل عبد العزيز بن عبد الله السمسار، فلم نقف له على ترجمة، وليس له رواية في "المستدرك" غير هذه وليس هو بعبد العزيز بن عبد الله بن محمد بن أحمد الوراق كما ظنّه بعض أهل العلم، فإنَّ الأخير قد خرج من موطنه خراسان واستوطن ...» [ترقيم الرساله 8102] [ترقيم الشركة 8003] [ترقيم العلميه 7904]
أخبرني أبو النَّضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا شُعبة، عن يزيد بن خُمَير (1)، عن سليمان بن مَرثَد، عن أبي الدَّرداء، عن النبيِّ ﷺ قال: "لو تعلمونَ ما أعلمُ لَبكيتُم كثيرًا ولَضحِكتُم قليلًا، ولَخَرجتُم إلى الصُّعُدات نَجْأَرونَ إلى الله ﷿ لا تدرونَ تَنجُونَ أو لا تَنجُون" (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السَّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7905 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم روتے زیادہ اور ہنستے بہت کم، اور تم اللہ عزوجل کے حضور گڑگڑاتے ہوئے بلند مقامات (پہاڑوں اور جنگلوں) کی طرف نکل جاتے، اس حال میں کہ تمہیں یہ معلوم نہ ہوتا کہ تم (عذاب سے) نجات پاؤ گے یا نہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے سیاق و سباق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8103
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف سليمان بن مرثد» [ترقيم الرساله 8103] [ترقيم الشركة 8004] [ترقيم العلميه 7905]
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو المُوجّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، عن مَعمَر، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ قال: "ما يَنتظِرُ أحدُكم إِلَّا غِنًى مُطغِيًا، أو فقرًا مُنسِيًا، أو مرضًا مُفسِدًا، أو هَرَمًا مُفنِدًا، أو موتًا مُجهِزًا، أو الدجال، والدجّالُ شرُّ غائبٍ يُنتظَر، أو الساعة، والساعةُ أدهَى وأمَرُّ" (1). قال الحاكم: إن كان مَعمَرُ بن راشد سَمِع من المَقبُري، فالحديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7906 - إن كان معمر سمع من المقبري فهو صحيح على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ کیا ایسی مالداری کا جو (انسان کو) سرکش بنا دے، یا ایسے فقر کا جو (سب کچھ) بھلا دے، یا ایسی بیماری کا جو (جسم و صحت کو) بگاڑ دے، یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل کھو دے، یا ایسی موت کا جو اچانک آ جائے، یا دجال کا، اور دجال وہ بدترین غائب ہے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے، یا قیامت کا، اور قیامت تو بہت ہی سخت اور کڑوی چیز ہے۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اگر معمر بن راشد نے مقبری سے یہ روایت سنی ہے تو یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8104
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ معمرًا لم يسمع هذا الحديث من سعيد المقبري، بينهما فيه واسطة مبهمة، وإليه أشار الترمذي كما سيأتي» [ترقيم الرساله 8104] [ترقيم الشركة 8005] [ترقيم العلميه 7906]