کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اگر تم اللہ پر ویسا توکل کرو جیسا حق ہے، تو وہ تمہیں ویسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا حَيْوة، عن بكر بن عمرو، عن عبد الله بن هُبيرة، عن أبي تَميم (1) الجَيْشاني، عن عمر بن الخطاب، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "لو أنكم توكَّلتُم على الله حقَّ توكُّلِه، لَرزقَكم كما يرزُقُ الطيرَ، تغدو خِماصًا، وتَرُوحُ بِطانًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7894 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7894 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اللہ تعالیٰ پر ویسا ہی توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں ویسے ہی رزق عطا فرمائے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کے وقت بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر (پیٹ بھرے ہوئے) واپس لوٹتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو علي الحسن بن الحسين بن محمد (3) القارئ، حدثني خالي محمد بن أشرَسَ السُّلَمي، حدثنا عبد الصمد بن حسّان، حدثنا سفيان الثَّوري، حدثني أبو سَلَمة الخُراساني، عن الربيع بن أنس، عن أبي العاليَة، عن أُبيِّ بن كعب قال: قال رسول الله ﷺ: "بَشِّرْ أُمتي بالسَّنَاءِ والرِّفعة والتمكينِ في البلاد ما لم يَطلُبوا الدُّنيا بعملِ الآخرة [فمن طلبَ الدُّنيا بعملِ الآخرةِ لم يكُنْ له في الآخرة من] (1) نصيبٍ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کو اس وقت تک دنیا میں عزت، رفعت اور اقتدار کی خوشخبری دے دو جب تک کہ وہ آخرت کے عمل کے ذریعے دنیا طلب نہ کریں، پس جس نے آخرت کے عمل کے ذریعے دنیا طلب کی، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا عبيد الله بن محمد البَلْخي التاجر ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو صالح، حدثنا معاوية بن صالح، أنَّ عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير حدَّثه عن أبيه، عن كعب بن عِيَاض قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ لكلّ أمةٍ فتنةً، وإن فتنةً أُمّتي المالُ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7896 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7896 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً ہر امت کے لیے کوئی نہ کوئی فتنہ (آزمائش) رہا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا أبو مَعمَر، حدثنا إسماعيل بن جعفر عن عمرو مولى المُطَّلِب، عن المطَّلِب بن حَنْطَب، عن أبي موسى الأشعري، أن النبي ﷺ قال: "مَن أحبَّ دُنياه أضرَّ بآخرتِه، ومَن أحبَّ آخرتَه أضرَّ بدُنياه، فآثِروا ما يَبقَى على ما يَفنَى" (1).
هذا حديث صحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7897 - صحيح
هذا حديث صحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7897 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا، اور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا، لہٰذا تم فنا ہونے والی چیز کے مقابلے میں باقی رہنے والی چیز (آخرت) کو ترجیح دو۔“
یہ حدیث صحیح ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے۔