کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ نقصان میں رہتے ہیں: صحت اور فرصت
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مكيُّ بن إبراهيم، حدثنا عبد الله بن سعيد بن أبي هندٍ، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "نِعمَتانِ مَغبونٌ فيهما كثيرٌ من الناس: الصِّحةُ والفَرَاغُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7845 - ذا في البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے معاملے میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں: ایک صحت اور دوسری فراغت۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8042
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8042] [ترقيم الشركة 7944] [ترقيم العلميه 7845]
أخبرني الحسن بن حَلِيم (2) المَرْوَزي، أخبرنا أبو الموجه، أخبرنا عبدانُ [أخبرنا عبد الله بن المبارَك] (3) أخبرنا عبد الله بن أبي هند، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ لرجلٍ وهو يَعِظُه: "اغتِنمْ خمسًا قبلَ خمسٍ: شبابَك قبلَ هَرَمِكَ، وصِحَّتَك قبلَ سَقَمِك، وغِناكَ قبلَ فقرِك، وفَراغَك قبلَ شُغلِك، وحياتَك قبلَ موتِك" (4)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7846 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو: اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، اپنی مالداری کو فقر و تنگدستی سے پہلے، اپنی فراغت کو مصروفیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8043
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إن كان محفوظًا كما هو بين أيدينا في النسخ الحاضرة من "المستدرك" إلَّا أنَّ البيهقي» [ترقيم الرساله 8043] [ترقيم الشركة 7945] [ترقيم العلميه 7846]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي سَعْدَوَيهِ، حدثنا زكريا بن منظور بن ثَعلَبة بن أبي مالك، حدثنا أبو حازم، عن سهل بن سعد قال: مرَّ رسول الله ﷺ بذي الحُلَيفة، فرأى شاةً شائلةً برِجْلها، فقال: "أترَوْنَ هذه الشاةَ هيِّنةً على صاحبِها؟ قالوا: نعم، قال: "والذي نفسي بيده، لَلدُّنيا أهون على الله من هذه على صاحبِها، ولو كانت الدنيا تعدِلُ عند الله جناحَ بَعْوضةٍ ما سَقَى كافرًا منها شَرْبةَ ماء" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7847 - زكريا بن منظور ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ذوالحلیفہ کے مقام سے گزرے تو آپ ﷺ نے ایک مری ہوئی بکری دیکھی جس کی ٹانگ اوپر کو اٹھی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ بکری اپنے مالک کی نظر میں بے قیمت اور ذلیل ہے؟“ صحابہ نے عرض کی: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ بے قیمت ہے جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک ہے، اور اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8044
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل زكريا بن منظور، وبه أعلَّه الذهبي في "التلخيص"، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8044] [ترقيم الشركة 7946] [ترقيم العلميه 7847]