کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: انبیاء علیہم السلام پر سب سے سخت آزمائش آتی ہے، پھر نیک لوگوں پر
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا بشر بن موسى، حدثنا خالد بن خِدَاش بن عَجْلان المُهلَّبي، حدثنا عبد الله بن وهب، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: دخلتُ على النبيِّ ﷺ وهو محمومٌ، فوضعت يدي من فوقَ القَطِيفة، فوجدتُ حرارةَ الحُمَّى، فقلت: ما أَشدَّ حُمَّاك يا رسولَ الله! قال: "إِنَّا كذاكَ معشرَ الأنبياء، يُضاعَفُ علينا الوجعُ ليُضاعَفَ لنا الأجرُ" قال: فقلتُ: يا رسولَ الله، أيُّ الناس أشدُّ بلاء؟ قال: "الأنبياءُ" قلتُ: ثم مَن؟ قال: "ثمَّ الصالحون، إنْ كان الرجلُ لَيُبتَلى [بالفقر حتى (1)، ما يجدُ إِلَّا العَبَاءةَ فيَجُوبُها ويَلْبَسُها، وإن كان أحدُهم لَيُبتَلى] بالقَمْل حتى يقتلَه القملُ، وكان ذلك أحبَّ إليهم من العَطاءِ إليكم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7848 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ ﷺ کو بخار تھا، میں نے اپنا ہاتھ کمبل کے اوپر رکھا تو مجھے بخار کی تپش محسوس ہوئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کو کتنا شدید بخار ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم انبیاء کی جماعت کا حال ایسا ہی ہوتا ہے، ہم پر تکلیف و بیماری دوگنی کر دی جاتی ہے تاکہ ہمارے لیے اجر و ثواب بھی دوگنا کر دیا جائے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن کی ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء کی“، میں نے عرض کی: پھر کن کی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر نیک لوگوں کی، بلاشبہ (پچھلی امتوں میں) کسی شخص کو فقر و فاقہ کے ذریعے آزمایا جاتا تھا یہاں تک کہ اسے ایک کمبل کے سوا کچھ میسر نہ ہوتا جسے وہ پھاڑ کر (بجائے لباس کے) پہن لیتا، اور ان میں سے کوئی جوؤں کے ذریعے آزمایا جاتا یہاں تک کہ وہ اسے ہلاک کر دیتیں، اور ان بزرگوں کو آزمائش و بلا (اس قدر) پسند تھی جتنا تمہیں مال و عطا پسند ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8045
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن إن شاء الله من أجل هشام بن سعد
تخریج حدیث «إسناده حسن إن شاء الله من أجل هشام بن سعد، كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (120)» [ترقيم الرساله 8045] [ترقيم الشركة 7947] [ترقيم العلميه 7848]
أخبرنا أبو النَّضر الفقيه وإبراهيم بن إسماعيل القارئ، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا يحيى بن صالح الوَحَاظي، حدثنا أبو إسماعيل السَّكُوني قال: سمعتُ مالكَ بن أدَّى (3) يقول: سمعت النُّعمان بن بَشِيرٍ يقول وهو على المنبر: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "ألا إنه لم يبق من الدنيا إِلَّا مثلُ الذُّباب تَمُورُ في جَوِّها، فاللهَ الله في إخوانِكم من أهل القُبور، فإِنَّ أعمالَكم تُعرَضُ عليهم" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7849 - فيه مجهولان
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ منبر پر فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”آگاہ رہو! دنیا میں سے اب کچھ باقی نہیں رہا مگر اتنا ہی جیسے وہ مکھیاں جو فضا میں ادھر ادھر اڑ رہی ہوں، پس اپنے ان بھائیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو جو قبروں والے ہیں (یعنی فوت ہو چکے ہیں)، کیونکہ تمہارے اعمال ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8046
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، أبو إسماعيل السكوني وشيخه مالك بن أدى مجهولان قاله أبو حاتم الرازي كما في "الجرح والتعديل" 9/ 336، وبهما أعلَّه الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 8046] [ترقيم الشركة 7948] [ترقيم العلميه 7849]