کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نذر کی حقیقت کا بیان
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك وأبو سعيد محمد بن شاذانَ، قالا: حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا عمرو بن أبي عمرو مولى ابن المطَّلِب، عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة، أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "إنَّ النَّذرَ لم (1) يُقرب من ابن آدم شيئًا لم يكن الله تعالى قدَّره له، ولكنّ النَّذِرَ يُوافِقُ القَدَرَ فيُخرجُ بذلك من البخيل ما لم يكنِ البخيلُ يريدُ أن يُخرِجَه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7838 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ نذر (منت) ابنِ آدم کے لیے ایسی کوئی چیز قریب نہیں لاتی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقدر نہ کی ہو، بلکہ نذر تو تقدیر کے الہیٰ کے موافق ہو جاتی ہے، اس طرح نذر کے ذریعے بخیل (کنجوس) سے وہ مال نکلوا لیا جاتا ہے جسے وہ (عام حالات میں اپنی مرضی سے) نکالنا نہیں چاہتا تھا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے سیاق و سباق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النذور / حدیث: 8034
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل عمرو بن أبي عمرو، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8034] [ترقيم الشركة 7937] [ترقيم العلميه 7838]
أخبرنا أبو يحيى ابن المقرئ الإمام بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم وحجَّاج بن مِنْهال، قالا: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حبيب المُعلِّم، عن عطاء، عن جابر: أنَّ رجلًا نَذَرَ أن يُصلِّيَ في بيت المَقدِس، فسأل عن ذلك رسولَ الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ: "صلِّ هاهنا" يعني في المسجد الحرام، فقال: يا رسولَ الله، إنما نذرتُ أن أُصلِّيَ في بيت المقدس! فقال: "صلِّ هاهنا" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7839 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بیت المقدس میں نماز پڑھے گا، اس نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”یہیں نماز پڑھ لو“ یعنی مسجد حرام میں، اس نے (دوبارہ) عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے تو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر مانی ہے! آپ ﷺ نے (پھر) فرمایا: ”یہیں نماز پڑھ لو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النذور / حدیث: 8035
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي من أجل حبيب المعلم» [ترقيم الرساله 8035] [ترقيم الشركة 7938] [ترقيم العلميه 7839]