حدیث نمبر: 8034
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك وأبو سعيد محمد بن شاذانَ، قالا: حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا عمرو بن أبي عمرو مولى ابن المطَّلِب، عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة، أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "إنَّ النَّذرَ لم (1) يُقرب من ابن آدم شيئًا لم يكن الله تعالى قدَّره له، ولكنّ النَّذِرَ يُوافِقُ القَدَرَ فيُخرجُ بذلك من البخيل ما لم يكنِ البخيلُ يريدُ أن يُخرِجَه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7838 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ نذر (منت) ابنِ آدم کے لیے ایسی کوئی چیز قریب نہیں لاتی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقدر نہ کی ہو، بلکہ نذر تو تقدیر کے الہیٰ کے موافق ہو جاتی ہے، اس طرح نذر کے ذریعے بخیل (کنجوس) سے وہ مال نکلوا لیا جاتا ہے جسے وہ (عام حالات میں اپنی مرضی سے) نکالنا نہیں چاہتا تھا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے سیاق و سباق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النذور / حدیث: 8034
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل عمرو بن أبي عمرو، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8034] [ترقيم الشركة 7937] [ترقيم العلميه 7838]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا في النسخ، وفي مصادر التخريج: لا، وهو الجادّة.
نوٹ / توضیح: نسخوں میں اسی طرح ہے، جبکہ تخریج کے دیگر مصادر میں لفظ "لا" (نہیں) ہے، اور یہی درست اور معروف طریقہ ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل عمرو بن أبي عمرو، وقد توبع.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور عمرو بن ابی عمرو کی وجہ سے یہ سند "جید" (عمدہ) ہے، اور ان کی تائید (متابعت) بھی موجود ہے۔
وأخرجه مسلم (1640) (7) عن قتيبة بن سعيد بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهول منه. وأخرجه أحمد 14 / (8860)، ومسلم (1640) (7) من طرق عن إسماعيل بن جعفر، به. وأخرجه مسلم (1640) (7) من طريق يعقوب بن عبد الرحمن وعبد العزيز الدراوردي، كلاهما عن عمرو بن أبي عمرو، به. وفي بعض الروايات جاء الحديث قُدسيًا من كلام الله ﷿.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام مسلم (1640 حدیث نمبر 7) نے قتیبہ بن سعید کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔ امام احمد (14/ 8860) اور امام مسلم (1640 حدیث نمبر 7) نے اسے اسماعیل بن جعفر کے مختلف طرق سے بھی روایت کیا ہے۔ نیز امام مسلم نے اسے یعقوب بن عبد الرحمن اور عبد العزیز الدراوردی کے طریق سے بھی نقل کیا ہے جو دونوں عمرو بن ابی عمرو سے روایت کرتے ہیں۔ بعض روایات میں یہ حدیث "قدسی" کی صورت میں اللہ عزوجل کے کلام کے طور پر آئی ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 12/ (7297)، والبخاري (6694)، وأبو داود (3288)، وابن ماجه (2123)، والنسائي (4727) من طريق أبي الزناد، عن عبد الرحمن الأعرج، به.
حوالہ / مصدر: اس کی مانند روایت امام احمد (12/ 7297)، بخاری (6694)، ابو داود (3288)، ابن ماجہ (2123) اور نسائی (4727) نے ابو الزناد کے طریق سے عبد الرحمن الاعرج کے واسطے سے روایت کی ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 13/ (8152)، والبخاري (6609) من طريق همام بن منبّه، وأحمد 12 / (208) و (7998) و 15/ (9340) و 16/ (9963)، ومسلم (1640) (5) و (6)، والترمذي (1538)، والنسائي (4728)، وابن حبان (4376) من طريق عبد الرحمن بن يعقوب الحُرقي، كلاهما عن أبي هريرة. وقال الترمذي: حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسی مفہوم کی روایت امام احمد (13/ 8152) اور بخاری (6609) نے ہمام بن منبہ کے طریق سے، اور امام احمد نے دیگر مقامات (12/ 208، 7998؛ 15/ 9340؛ 16/ 9963)، مسلم (1640 حدیث نمبر 5 و 6)، ترمذی (1538)، نسائی (4728) اور ابن حبان (4376) نے عبد الرحمن بن یعقوب الحرقی کے طریق سے نقل کی ہے۔ یہ دونوں (ہمام اور حرقی) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8034 سے ماخوذ ہے۔