حدیث نمبر: 8035
أخبرنا أبو يحيى ابن المقرئ الإمام بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم وحجَّاج بن مِنْهال، قالا: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حبيب المُعلِّم، عن عطاء، عن جابر: أنَّ رجلًا نَذَرَ أن يُصلِّيَ في بيت المَقدِس، فسأل عن ذلك رسولَ الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ: "صلِّ هاهنا" يعني في المسجد الحرام، فقال: يا رسولَ الله، إنما نذرتُ أن أُصلِّيَ في بيت المقدس! فقال: "صلِّ هاهنا" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7839 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بیت المقدس میں نماز پڑھے گا، اس نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”یہیں نماز پڑھ لو“ یعنی مسجد حرام میں، اس نے (دوبارہ) عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے تو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر مانی ہے! آپ ﷺ نے (پھر) فرمایا: ”یہیں نماز پڑھ لو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النذور / حدیث: 8035
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي من أجل حبيب المعلم» [ترقيم الرساله 8035] [ترقيم الشركة 7938] [ترقيم العلميه 7839]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده قوي من أجل حبيب المعلم. أبو يحيى بن المقرئ: هو محمد بن عبد الله بن محمد بن عبد الله بن يزيد المقرئ، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
درجۂ حدیث: حبیب المعلم کی موجودگی کی وجہ سے اس کی سند "قوی" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور ابو یحییٰ بن المقرئ کا پورا نام محمد بن عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ بن یزید المقرئ ہے، اور عطا سے مراد مشہور تابعی عطا بن ابی رباح ہیں۔
وأخرجه أحمد 23/ (14919)، وأبو داود (3305) من طريقين عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس روایت کی تخریج امام احمد (23/ 14919) اور ابو داود (3305) نے حماد بن سلمہ کے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8035 سے ماخوذ ہے۔