کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: گناہ کے کام میں نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن محمد ابن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حذيفة، قالا: حدثنا سفيان، عن محمد بن الزُّبير، عن الحسن، عن عمران بن حُصين قال: قال رسول الله ﷺ: "لا نذرَ في غضبٍ، وكفَّارتُه كفارة يمين" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7840 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7840 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غصے کی حالت میں مانی گئی نذر کی (شرعی) حیثیت نہیں، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔“
أخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا محمد بن الزُّبير الحَنظَلي، عن أبيه، عن رجل، عن عِمران بن حُصَين، أنَّ النبي ﷺ قال: "لا نذرَ في غضبٍ، وكفَّارتُه كفَّارة يمين" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”غصے کی حالت میں مانی گئی نذر معتبر نہیں، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔“
حدَّثَناه عبد الله بن إسحاق الخُراساني، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كَثير الحِمصي، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى، عن محمد بن الزُّبير الحنظلي، عن أبيه، عن عِمران بن حُصين، أنَّ النبي ﷺ قال: "لا نذرَ في غضب، وكفّارتُه كفارةُ يمين" (1). وقد أعضَلَه مَعمرٌ عن يحيى بن أبي كثير:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”غصے میں مانی گئی نذر لازم نہیں ہوتی، اور اس کا کفارہ قسم کے کفارے کے مانند ہے۔“
اور (امام حاکم فرماتے ہیں کہ) معمر نے اسے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرتے ہوئے معضل (سند میں انقطاع کے ساتھ) بیان کیا ہے۔
اور (امام حاکم فرماتے ہیں کہ) معمر نے اسے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرتے ہوئے معضل (سند میں انقطاع کے ساتھ) بیان کیا ہے۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، عن مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير قال: حدثني رجلٌ من بني حَنيفة، عن عِمران بن حُصَين (1)، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا نذرَ في مَعصِيَةٍ" (2). الرجل الذي لم يُسمِّه معمرٌ عن يحيى هو محمد بن الزُّبير بلا شكٍّ، فإنه أراد أن يقول: من بني حنظلة، فقال: من بني حنيفة، فأما قولُه ﷺ: "لا نذرَ في معصية" فقد اتَّفق عليه الشيخان (3)، ومدار الحديث الآخر على محمد بن الزُّبير الحنظلي، وليس يصحُّ.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی کے کام میں مانی گئی نذر کی کوئی حیثیت نہیں (یعنی وہ پوری نہیں کی جائے گی)۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ وہ راوی جس کا نام معمر نے یحییٰ کے واسطے سے بیان نہیں کیا وہ بلا شک محمد بن زبیر ہے، کیونکہ اس نے ”بنو حنظلہ“ کہنے کے بجائے غلطی سے ”بنو حنیفہ“ کہہ دیا، جہاں تک آپ ﷺ کے اس ارشاد ”نافرمانی میں نذر جائز نہیں“ کا تعلق ہے تو اس پر شیخین (بخاری و مسلم) کا اتفاق ہے، جبکہ دوسری حدیث (غصے والی) کا مدار محمد بن زبیر حنظلی پر ہے اور وہ (سنداً) صحیح نہیں ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ وہ راوی جس کا نام معمر نے یحییٰ کے واسطے سے بیان نہیں کیا وہ بلا شک محمد بن زبیر ہے، کیونکہ اس نے ”بنو حنظلہ“ کہنے کے بجائے غلطی سے ”بنو حنیفہ“ کہہ دیا، جہاں تک آپ ﷺ کے اس ارشاد ”نافرمانی میں نذر جائز نہیں“ کا تعلق ہے تو اس پر شیخین (بخاری و مسلم) کا اتفاق ہے، جبکہ دوسری حدیث (غصے والی) کا مدار محمد بن زبیر حنظلی پر ہے اور وہ (سنداً) صحیح نہیں ہے۔
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزِير (4)، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أبو عامر الخزَّاز، عن كثير بن شِنْظير، عن الحسن، عن عمران بن حصين قال: ما خَطَبَنا رسولُ اللهِ ﷺ خُطبةً إِلَّا أَمَرَنا بالصدقة، ونهانا عن المُثْلة، قال: وقال: "إِنَّ مِن المُثْلِةِ أَن يَخزِمَ أَنفَه، وإنَّ من المُثْلِةِ أن يَنذِرَ الرجلُ أن يَحُجَّ ماشيًا، فمن نَذَرَ أن يحُجَّ ماشيًا فليُهِدِ هَدْيًا وليَركَب" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب النذور [كتاب الرقاق] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7843 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب النذور [كتاب الرقاق] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7843 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جب بھی کوئی خطبہ دیا تو اس میں ہمیں صدقہ و خیرات کا حکم دیا اور ”مثلہ“ (انسانی اعضاء کو کاٹنے یا بگاڑنے) سے منع فرمایا، اور آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ (جانور یا انسان کی) ناک چھیدنا بھی مثلہ میں شامل ہے، اور کسی شخص کا یہ نذر ماننا کہ وہ پیدل حج کرے گا یہ بھی مثلہ (جسم کو بلاوجہ مشقت میں ڈالنا) ہے، پس جس نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہو اسے چاہیے کہ وہ ہدی (قربانی کا جانور) ذبح کرے اور (حج کے لیے) سوار ہو کر جائے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔