کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اگر کسی شخص کے لیے نذر پوری کرنا مشکل ہو جائے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (2)، حدثنا يَعلَى بن عُبيد، حدثنا أبو سعد البقَّال، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: جاء رجلٌ إلى النبيِّ ﷺ فقال: إنَّ أُختي حَلَفَت أن تمشي إلى البيت، وإنه يَشُقُّ عليها المشيُ، قال: "مُرْها فلتَركَبْ إذ لم تستطِعْ أن تمشيَ، فما أَغنى الله أن يَشُقُّ على أُختِك" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7829 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7829 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میری بہن نے بیت اللہ تک پیدل چلنے کی نذر مانی ہے جبکہ پیدل چلنا اس کے لیے بہت شاق ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کہو کہ وہ سوار ہو جائے جب وہ پیدل چلنے کی استطاعت نہیں رکھتی، اللہ کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ تمہاری بہن خود کو مشقت میں ڈالے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه الحسن بن حَليم (1) المروَزي، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا الحُسين بن حُرَيث، حدثنا الفضل بن موسى، عن شَريك، عن أبي إسحاق في الرجل يَحلِفُ بالمشي فيَعجِزُ فيركبُ، قال: قال ابن عباس: يحُجُّ مِن قابلٍ، فيركبُ ما مَشَي، ويمشي ما رَكِب (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7830 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7830 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس شخص کے بارے میں جو پیدل چلنے کی نذر مانے لیکن عاجز آ کر سوار ہو جائے، فرماتے ہیں کہ: وہ اگلے سال دوبارہ حج کرے، اور (تلافی کے طور پر) جتنا راستہ پچھلی بار سوار ہو کر طے کیا تھا اسے پیدل چلے، اور جہاں پیدل چلا تھا وہاں سوار ہو جائے۔
قال شَريك: وحدثنا محمد بن عبد الرحمن مولى آل طلحة، عن كُرَيب، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا جاء إلى النبيِّ ﷺ فقال: إنَّ أختي جعلَت عليها المشيَ إلى بيتِ الله، قال: "إنَّ الله تعالى لا يصنعُ بشَقاءِ (1) أختِك شيئًا، قُلْ لها: فلتحُجَّ راكبةً، ولتُكفِّر يمينَها" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میری بہن نے اللہ کے گھر تک پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کو مشقت میں ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں فرماتا، اسے کہو کہ سوار ہو کر حج کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا عبد الله بن جعفر بن دَرَستوَيهِ، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيسي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الرِّجال، عن أبيه، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: أُهدَي لي لحمٌ، فأمرني رسولُ الله ﷺ أن أُهدِيَ منه لزينب، فأهديتُ لها فردَّتْه، فقال: "زِيديها"، فزدتُها، فردَّتْه، فقال: "أقسمتُ عليكِ إِلَّا زِدتِيها" فزدتُها فردَّتْه، فدخلتني غَيْرةٌ، فقلتُ: لقد أهانَتْكَ، فقال: "أنتِ وهي أهونُ على اللهِ من أن يُهِيَنني منكنَّ أحدٌ، أقسمتُ لا أدخلُ عليكنَّ شهرًا"، فغابَ عنا تسعًا وعشرينَ، ثم دخلَ علينا مساءَ الثلاثين، فقالت: كنتَ حلفتَ أن لا تدخلَ شهرًا، فقال: "شهرٌ هكذا، وشهرٌ هكذا، وفرَّق بين كفَّيِه وأمسكَ في الثالثة الإبهامَ (3).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وفيه البيانُ أنَّ "أقسمتُ على كذا" يمينٌ وقَسَمٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7831 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وفيه البيانُ أنَّ "أقسمتُ على كذا" يمينٌ وقَسَمٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7831 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھے گوشت ہدیہ کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس میں سے کچھ (سیدہ) زینب رضی اللہ عنہا کو بھیج دوں، میں نے بھیجا تو انہوں نے واپس کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں مزید (بڑھا کر) بھیجو“، میں نے پھر بھیجا تو انہوں نے پھر واپس کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم انہیں مزید بھیجو“، میں نے پھر بھیجا تو انہوں نے پھر واپس کر دیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے غیرت آ گئی اور میں نے کہا: انہوں نے تو آپ کی بات رد کر دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اور وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ معمولی ہو کہ تم میں سے کوئی میری بے ادبی کی مرتکب ہو، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ایک ماہ تک تم لوگوں کے پاس نہیں آؤں گا“، چنانچہ آپ ﷺ انتیس دن ہم سے دور رہے اور تیسویں دن کی شام تشریف لائے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ نے تو ایک ماہ نہ آنے کی قسم کھائی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح بھی ہوتا ہے اور اس طرح بھی“ اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کے اشارے سے واضح کیا کہ مہینہ 29 دن کا بھی ہوتا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا؛ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ”میں قسم دیتا ہوں“ کہنا بھی قسم کے حکم میں ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا؛ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ”میں قسم دیتا ہوں“ کہنا بھی قسم کے حکم میں ہے۔
وحدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا عمرو بن الحارث، أن كثير بن فَرْقد حدَّثه، أنَّ نافعًا حدَّثهم، عن عبد الله بن عمر، عن رسول الله ﷺ قال: "من حَلَفَ على يمينٍ ثم قال: إنْ شاء الله، فإنَّ له ثُنْياهُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7832 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7832 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کوئی قسم کھائی اور پھر ’ان شاء اللہ‘ کہہ دیا، تو اس کے لیے (قسم کے لازم ہونے سے) استثناء حاصل ہو گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد (1)، حدثنا مِنْجاب بن الحارث، حدثنا علي بن مُسهِر، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عبّاس قال: إذا حَلَفَ الرجلُ على يمين فله أن يستثنيَ ولو إلى سنةٍ، وإنما نزلت هذه الآية في هذا: ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾ [الكهف: 24]، قال: إذا ذكرَ استَثنَى (1). قال علي بن مسهر: وكان الأعمش يأخذ بهذا.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7833 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7833 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص قسم کھائے تو اسے ’ان شاء اللہ‘ کہنے کا حق حاصل ہے خواہ ایک سال بعد ہی کیوں نہ ہو، اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے: ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾ [سورة الكهف: 24] ”اور جب تم بھول جاؤ تو اپنے رب کو یاد کرو“، یعنی جب یاد آئے تو استثناء (ان شاء اللہ) کہہ دے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔