حدیث نمبر: 8025
قال شَريك: وحدثنا محمد بن عبد الرحمن مولى آل طلحة، عن كُرَيب، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا جاء إلى النبيِّ ﷺ فقال: إنَّ أختي جعلَت عليها المشيَ إلى بيتِ الله، قال: "إنَّ الله تعالى لا يصنعُ بشَقاءِ (1) أختِك شيئًا، قُلْ لها: فلتحُجَّ راكبةً، ولتُكفِّر يمينَها" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میری بہن نے اللہ کے گھر تک پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کو مشقت میں ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں فرماتا، اسے کہو کہ سوار ہو کر حج کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 8025
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف شريك» [ترقيم الرساله 8025] [ترقيم الشركة 7929]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: لشقاء، والمثبت من مصادر التخريج.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ "لشقاء" لکھا ہے، جبکہ جو ہم نے ثابت کیا ہے وہ دیگر مصادرِ تخریج کے مطابق ہے۔
(2) إسناده ضعيف شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - في حفظه سوء.
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ شریک بن عبد اللہ النخعی کے حافظے کی کمزوری (سوءِ حفظ) ہے۔
وأخرجه أحمد 5 / (2828) و (2885)، وأبو داود (3295)، وابن حبان (4384) من طرق عن شريك النخعي، بهذا الإسناد. وانظر ما سلف برقم (8023).
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (2828، 2885)، ابوداؤد (3295) اور ابن حبان (4384) نے شریک النخعی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
اہم نکتہ: اس سلسلے میں گزشتہ حدیث نمبر (8023) بھی ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8025 سے ماخوذ ہے۔