حدیث نمبر: 8026
أخبرنا عبد الله بن جعفر بن دَرَستوَيهِ، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيسي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الرِّجال، عن أبيه، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: أُهدَي لي لحمٌ، فأمرني رسولُ الله ﷺ أن أُهدِيَ منه لزينب، فأهديتُ لها فردَّتْه، فقال: "زِيديها"، فزدتُها، فردَّتْه، فقال: "أقسمتُ عليكِ إِلَّا زِدتِيها" فزدتُها فردَّتْه، فدخلتني غَيْرةٌ، فقلتُ: لقد أهانَتْكَ، فقال: "أنتِ وهي أهونُ على اللهِ من أن يُهِيَنني منكنَّ أحدٌ، أقسمتُ لا أدخلُ عليكنَّ شهرًا"، فغابَ عنا تسعًا وعشرينَ، ثم دخلَ علينا مساءَ الثلاثين، فقالت: كنتَ حلفتَ أن لا تدخلَ شهرًا، فقال: "شهرٌ هكذا، وشهرٌ هكذا، وفرَّق بين كفَّيِه وأمسكَ في الثالثة الإبهامَ (3).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وفيه البيانُ أنَّ "أقسمتُ على كذا" يمينٌ وقَسَمٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7831 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھے گوشت ہدیہ کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس میں سے کچھ (سیدہ) زینب رضی اللہ عنہا کو بھیج دوں، میں نے بھیجا تو انہوں نے واپس کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں مزید (بڑھا کر) بھیجو“، میں نے پھر بھیجا تو انہوں نے پھر واپس کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم انہیں مزید بھیجو“، میں نے پھر بھیجا تو انہوں نے پھر واپس کر دیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے غیرت آ گئی اور میں نے کہا: انہوں نے تو آپ کی بات رد کر دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اور وہ اللہ کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ معمولی ہو کہ تم میں سے کوئی میری بے ادبی کی مرتکب ہو، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ایک ماہ تک تم لوگوں کے پاس نہیں آؤں گا“، چنانچہ آپ ﷺ انتیس دن ہم سے دور رہے اور تیسویں دن کی شام تشریف لائے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ نے تو ایک ماہ نہ آنے کی قسم کھائی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح بھی ہوتا ہے اور اس طرح بھی“ اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کے اشارے سے واضح کیا کہ مہینہ 29 دن کا بھی ہوتا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا؛ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ”میں قسم دیتا ہوں“ کہنا بھی قسم کے حکم میں ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 8026
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الرجال» [ترقيم الرساله 8026] [ترقيم الشركة 7930] [ترقيم العلميه 7831]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الرجال.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے، جس کی وجہ عبد الرحمن بن ابی الرجال کی موجودگی ہے۔
وأخرجه أحمد 41 / (24743)، وابن ماجه (2059)، وأبو نعيم في "الحلية" 9/ 40 وغيرهم من طرق عن عبد الرحمن بن أبي الرجال، بهذا الإسناد. وروايتهم مختصرة بقصة حلفه بعدم الدخول على نسائه إلا رواية أبي نعيم فمطولة بنحو رواية الحاكم.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (24743)، ابن ماجہ (2059) اور ابو نعیم نے "الحلیہ" (9/40) میں عبد الرحمن بن ابی الرجال کے طرق سے کی ہے۔
تفصیلِ روایت: ان سب کی روایات صرف ازواجِ مطہرات کے پاس نہ جانے کی قسم کے قصے تک مختصر ہیں، سوائے ابو نعیم کی روایت کے جو امام حاکم کی روایت کی طرح مفصل ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 8/ 190 عن محمد بن عمر الواقدي، عن مالك وعبد الرحمن ابني أبي، الرجال، عن أبيهما، به بنحو رواية الحاكم.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات الکبری" (8/190) میں محمد بن عمر الواقدی کے واسطے سے، انہوں نے مالک اور عبد الرحمن (پسرانِ ابی الرجال) سے، انہوں نے اپنے والد سے امام حاکم کی روایت کی طرح نقل کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد 8/ 188 عن الواقدي، عن أبي معشر نجيح، السندي، عن حارثة بن أبي الرجال قال: دخلت مع القاسم بن محمد على عمرة بنت عبد الرحمن فقال القاسم: يا أم محمد في أي شيء هجر رسول الله ﷺ نساءه؟ فقالت عمرة: أخبرتني عائشة: أنه أُهدي إلى رسول الله ﷺ هدية في بيتها، فأرسل إلى كل امرأة من نسائه بنصيبها، وأرسل إلى زينب بنت جحش فلم ترضَ، ثم زادوها مرة أخرى فلم ترضَ فقالت عائشة: لقد أقمَأَت وجهَك أن تردَّ عليك الهدية، فقال رسول الله ﷺ: "الأنتنَّ أهونُ على الله من أن تُقمِئنَني لا أدخل عليكنَّ شهرًا". ثم ذكرت قصة عمر في مراجعته النبي ﷺ في طلاق زوجاته بنحو حديث ابن عباس عنه المخرّجة عند البخاري (4913) ومسلم (1479).
تفصیلِ روایت: ابن سعد (8/188) نے واقدی کے طریق سے نقل کیا کہ حارثہ بن ابی الرجال قاسم بن محمد کے ساتھ حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن کے پاس گئے تو قاسم نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج سے علیحدگی کیوں اختیار کی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی ﷺ کو ایک ہدیہ دیا گیا، آپ ﷺ نے تمام ازواج کو ان کا حصہ بھیجا، مگر جب حضرت زینب بنت جحش کو بھیجا تو وہ راضی نہ ہوئیں، دوبارہ بھیجا گیا پھر بھی وہ راضی نہ ہوئیں۔ حضرت عائشہ نے عرض کیا: انہوں نے ہدیہ رد کر کے آپ کے چہرے کو لوگوں میں نیچا دکھایا ہے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "تم سب اللہ کے نزدیک اتنی معمولی ہو کہ مجھے ذلیل کرو؟ اب میں ایک ماہ تک تمہارے پاس نہیں آؤں گا"۔ پھر اس میں حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کا واقعہ مذکور ہے جیسا کہ بخاری (4913) اور مسلم (1479) میں ہے۔
نوٹ / توضیح: اس سند میں الواقدی (محمد بن عمر) موجود ہیں جن پر محدثین کا کلام ہے۔
وأخرجه ابن سعد 8/ 190 عن الواقدي، عن محمد بن عبد الله، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة قالت: ذبح رسول الله ﷺ ذبحًا فأمرني فقسمتُه بين أزواجه، فأرسل إلى زينب بنت جحش بنصيبها فردّته … فذكرته مطولًا بنحو سابقه، والواقدي فيه مَقال.
حوالہ / مصدر: ابن سعد (8/190) نے واقدی کے واسطے سے زہری عن عروہ عن عائشہ کی سند سے بھی اسے روایت کیا ہے جس میں ذبح شدہ گوشت کی تقسیم کا ذکر ہے، یہ روایت بھی سابقہ روایت کی طرح طویل ہے۔
نوٹ / توضیح: محمد بن عمر الواقدی کے بارے میں جرح و تعدیل کے ائمہ کے یہاں کلام موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8026 سے ماخوذ ہے۔