المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَكْرَهُ أَنْ يَطَأَ أَحَدٌ عَقِبَهُ باب: رسول اللہ ﷺ اسے ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی آپ کے نقشِ قدم پر (بالکل پیچھے لگ کر) چلے
حدیث نمبر: 7939
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا الحسن بن علي بن بحر بن بَرِّي، حدثني أبي، حدثنا سعيد بن مَسلَمة بن هشام بن عبد الملك الأُموي، حدثنا إسماعيل بن أميّة، عن نافع، عن ابن عمر قال: دخلَ رسولُ الله ﷺ المسجدَ وأبو بكر عن يمينِه وعمرُ عن شمالِه، آخذًا (2) بأيديهما، فقال: "هكذا نُبعَثُ يومَ القيامة (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7746 - سعيد بن مسلمة ضعفوهحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں اس حال میں داخل ہوئے کہ ابوبکر آپ کے دائیں جانب اور عمر آپ کے بائیں جانب تھے اور آپ ﷺ نے ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم قیامت کے دن اسی طرح اٹھائے جائیں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في النسخ الخطية: آخذ، والمثبت من "تلخيص الذهبي".
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "آخذ" کا لفظ ہے، جبکہ ہم نے اسے علامہ ذہبی کی "التلخیص" کے مطابق درست کر کے لکھا ہے۔
(3) إسناده ضعيف بمرّة من أجل سعيد بن مسلمة. وقد سلف برقم (4477).
درجۂ حدیث: اس کی سند سعید بن مسلمہ بن ہشام کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔
نوٹ / توضیح: اس کا ذکر پہلے حدیث نمبر (4477) میں گزر چکا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "آخذ" کا لفظ ہے، جبکہ ہم نے اسے علامہ ذہبی کی "التلخیص" کے مطابق درست کر کے لکھا ہے۔
(3) إسناده ضعيف بمرّة من أجل سعيد بن مسلمة. وقد سلف برقم (4477).
درجۂ حدیث: اس کی سند سعید بن مسلمہ بن ہشام کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔
نوٹ / توضیح: اس کا ذکر پہلے حدیث نمبر (4477) میں گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7939 سے ماخوذ ہے۔