المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - : تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي باب: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت اختیار نہ کرو
حدیث نمبر: 7928
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا شُعبة، عن قَتَادة ومنصور وسليمان وحُصَين بن عبد الرحمن، قالوا سمعنا سالمَ بن أبي الجَعْد يحدِّث عن جابر بن عبد الله قال: وُلِدَ للأنصار ولدٌ فأرادوا أن يسمُّوه محمدًا، فأتَوا به رسولَ الله ﷺ، فقال: "أحسنَتِ الأنصارُ، تَسمَّوا باسمي ولا تَكْتَنُوا بكُنْيتي، فإنما بُعِثتُ قاسِمًا أَقسِمُ بينكم" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين وقد اتَّفقا فيه على حديث جَرير عن منصور بغير هذه السِّياقة. وقد جمع بِشرُ بن عمر الزَّهراني وأبو الوليد الطَّيالسي عن شُعبة بين الأربعة كما جمع بينهم النَّضرُ بن شُمَيل:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: انصار کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام ”محمد“ رکھنے کا ارادہ کیا، وہ اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انصار نے بہت اچھا کیا، میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو، کیونکہ میں «قَاسِمًا» ”تقسیم کرنے والا“ بنا کر بھیجا گیا ہوں تاکہ تمہارے درمیان تقسیم کروں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور ان دونوں نے اس میں جریر کی منصور سے روایت پر اتفاق کیا ہے لیکن اس سیاق کے ساتھ نہیں۔