کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: کچھ لوگ تمنا کریں گے کہ کاش انہوں نے دنیا میں زیادہ گناہ کیے ہوتے (تاکہ توبہ کے بعد نیکیاں زیادہ ہوتیں)
حَدَّثَنَا أبو العباس السَّيَّاري، حَدَّثَنَا أبو المُوجِّه، حَدَّثَنَا عَبْدان قال: وأخبرني الفضلُ بن موسى، عن أبي العَنْبَس، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لَيَتمنَّينَّ أقوامٌ أكثَرُوا من السيِّئات" قالوا: بمَ يا رسولَ الله؟ قال: "الذين بدَّلَ اللهُ سيِّئاتِهم حَسَناتٍ" (3). أبو العَنبَس هذا سعيد بن كثير، وإسناده صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7643 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7643 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ لوگ (قیامت کے دن) یہ تمنا کریں گے کہ کاش انہوں نے بہت زیادہ برائیاں کی ہوتیں“ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ایسا کیوں ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی برائیوں کو اللہ نے نیکیوں میں بدل دیا ہوگا۔“
اس کی اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس کی اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن بِشر بن مَطَر، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عمر القَوَاريري، حَدَّثَنَا حَرَمي بن عُمارة بن أبي حفصة، حَدَّثَنَا شدَّاد بن سعيد أبو طلحة الراسبي، عن غَيْلان بن جَرير، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ: "لَيجِيئنَّ أقوامٌ من أُمتي بمثل الجبالِ ذنوبًا، فيغفرُها اللهُ لهم ويَضَعُها على اليهود والنَّصارى" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه الحجَّاج بن نُصَير عن أبي طلحة بزياداتٍ في متنِه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7644 - شداد بن سعيد الراسبي له مناكير
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه الحجَّاج بن نُصَير عن أبي طلحة بزياداتٍ في متنِه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7644 - شداد بن سعيد الراسبي له مناكير
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ قیامت کے دن پہاڑوں جتنے گناہ لے کر آئیں گے، تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا اور ان گناہوں کو یہودیوں اور عیسائیوں پر ڈال دے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔