کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بندے کی نیکیاں اور گناہ لائے جائیں گے اور بعض کا بعض سے قصاص (برابری) کیا جائے گا
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد الذُّهلي، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا المُعتمِر، قال: سمعتُ الحكمَ يُحدِّث عن الغِطْرِيف، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، عن النَّبِيِّ ﷺ، عن الرُّوح الأَمين قال: "قال الربُّ ﷿: يُؤتَى بحسناتِ العبد وسيئاتِه، فيُقَصُّ بعضُها ببعضٍ، فإن بَقيَتْ حسنةٌ وَسَّعَ الله له في الجنَّة". قال: فدخلتُ على يزداد (1)، فحدَّثَنا بمثل هذا الحديث، قلتُ له: فإن ذهبتِ الحسنةُ؟ قال: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا﴾ اقرأ إلى قوله: ﴿يُوعَدُونَ﴾ [الأحقاف: 16] قلتُ له: أفرأيتَ قولَه ﷿: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مَّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ [السجدة: 17]؟ فقال: العبدُ يَعمَلُ سِرًّا أجرُه على الله ﷿، لم (2) يُعلِمْ به الناسَ، فأسرَّ الله له يومَ القيامة قُرَّة عَينٍ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد لليمانيِّين، ولم يُخرجاه. والحَكَم الذي يروي عنه المعتمرُ بن سليمان: هو الحكم بن أبان العَدَني، والغِطريفُ: هو أبو هارون الغِطريف بنُ عبيد الله اليَمَاني.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7641 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد لليمانيِّين، ولم يُخرجاه. والحَكَم الذي يروي عنه المعتمرُ بن سليمان: هو الحكم بن أبان العَدَني، والغِطريفُ: هو أبو هارون الغِطريف بنُ عبيد الله اليَمَاني.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7641 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) کے حوالے سے بیان فرمایا کہ رب عزوجل نے فرمایا: ”بندے کی نیکیاں اور برائیاں لائی جائیں گی، پس ان کا ایک دوسرے کے بدلے قصاص (برابری) کیا جائے گا، پھر اگر ایک نیکی بھی بچ رہی تو اللہ اس کے لیے جنت میں وسعت فرما دے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں یزداد کے پاس گیا تو انہوں نے بھی اسی طرح حدیث بیان کی، میں نے ان سے پوچھا: اگر نیکیاں ختم ہو جائیں (یعنی برائیاں برابر ہو جائیں)؟ تو انہوں نے کہا یہ آیت پڑھو: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ ۖ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ﴾ [سورة الأحقاف: 16] میں نے ان سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مَّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [سورة السجدة: 17] کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: بندہ جو عمل پوشیدہ طور پر کرتا ہے جس کی لوگوں کو خبر نہیں ہوتی اس کا اجر اللہ عزوجل کے ذمے ہے، تو اللہ بھی قیامت کے دن اس کے لیے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک ظاہر فرمائے گا جو (ابھی تک) چھپا کر رکھی گئی ہے۔
یمانی راویوں کے حوالے سے یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یمانی راویوں کے حوالے سے یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا بصحّة ما ذكرتُه أبو أحمد بكرُ بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي بمَرُو، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي (1)، حَدَّثَنَا حفص بن عمر العَدَني، حَدَّثَنَا الحكم بن أبان، حدثني أبو هارون الغِطريف بن عبيد الله، أنَّ أبا الشَّعثاء حدَّثه، أَنَّ ابن عباس حدَّثه، أنَّ رسول الله ﷺ حدَّثه: "أَنَّ الرُّوحَ الأَمين حدَّثه: أَنَّ الله تعالى قَضَى أنْ يُؤتى بعملِ العبدِ يومَ القيامة حسناتِه وسيئاتِه، فيُقَصُّ بعضُها ببعضٍ، فإن بَقيَتْ له حسنةٌ واحدةٌ وسَّع الله له في الجنَّة ما شاء". قال الحكم بن أبان: فأتيتُ أبا سَلَمة يزدادَ، فقلتُ له: فإن ذهبت الحسنةُ فلم يبقَ شيءٌ؟ فقال: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا﴾ إلى قوله: ﴿الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ﴾ (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ روح الامین نے انہیں بتایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ قیامت کے دن بندے کے اعمال، اس کی نیکیاں اور برائیاں لائی جائیں گی، پھر ان کا ایک دوسرے کے بدلے قصاص کیا جائے گا، پس اگر اس کے لیے ایک نیکی بھی بچ رہی تو اللہ اس کے لیے جنت میں جتنی چاہے گا وسعت فرما دے گا۔“ حکم بن ابان کہتے ہیں: میں ابوسلمہ یزداد کے پاس آیا اور ان سے پوچھا: اگر نیکیاں ختم ہو جائیں اور کچھ باقی نہ رہے؟ تو انہوں نے کہا: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا﴾ سے ﴿الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ﴾ [سورة الأحقاف: 16] تک تلاوت کرو۔