کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ایک چڑیا کا قصہ جس نے اپنے بچے چھن جانے پر نبی کریم ﷺ سے شکایت کی
أخبرني أبو علي الحافظ، حدثنا عبد الله بن محمد ناجيَة، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو معاوية، حدثنا أبو إسحاق الشَّيباني، حدثنا الحسن ابن سعد، عن عبد الرحمن بن عبد الله مسعود، عن أبيه قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ في سفرٍ، ومَرَرْنا بشجرةٍ فيها فَرْخا حُمَّرة، فأخذناهما، قال: فجاءت الحُمَّرةُ إلى رسول الله ﷺ وهي تَصيحُ، فقال النبيُّ ﷺ: "مَن فَجَعَ هذه بفَرخَيْها؟ " قال: فقلنا: نحن، قال: "فرُدُّوهما" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7599 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7599 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہمارا گزر ایک ایسے درخت کے پاس سے ہوا جس میں چڑیا (حمرہ) کے دو بچے تھے، تو ہم نے انہیں پکڑ لیا، وہ چڑیا رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر چیخنے لگی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کس نے اس (پرندے) کو اس کے بچوں کے بارے میں دکھ پہنچایا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ہم نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان (بچوں) کو واپس رکھ دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن سِمَاك بن حَرب، عن مُرَي بن قَطَري، عن عَدِيِّ بن حاتم قال: قلت: يا رسولَ الله، إِنَّا نَصيدُ الصيدَ فلا نجدُ سِكّينًا إِلَّا الظَّرَارَ (1) وشِقَّةَ العصا، فقال: "أمِرَّ الدَّمَ بما شِئتَ، واذكر اسم الله ﷿" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. آخر كتاب الذبائح [كتاب التوبة والإنابة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7600 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. آخر كتاب الذبائح [كتاب التوبة والإنابة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7600 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم شکار کرتے ہیں تو ہمیں چھری نہیں ملتی سوائے تیز دھار پتھر یا لکڑی کے ٹکڑے کے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم جس چیز سے چاہو خون بہا دو (یعنی ذبح کر لو) اور اللہ عزوجل کا نام لو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ کتاب الذبائح یہاں مکمل ہوئی، اب کتاب التوبہ والانابہ شروع ہوتی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ کتاب الذبائح یہاں مکمل ہوئی، اب کتاب التوبہ والانابہ شروع ہوتی ہے۔